تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 71
تاریخ احمدیت۔جلد 24 71 سال 1967ء سے آئے ہوئے مخلصین اور عشاق خلافت کو شرف مصافحہ بخشا۔اور ان سے خطاب فرما کر سفر کے للہی مقاصد میں کامیابی کے لئے دعاؤں کی پر زور تحریک فرمائی۔حضور نے اپنے دردانگیز خطاب کے آخر میں فرمایا: 69 ” خدائی تصرف کے نتیجہ میں میں اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے دعائیں کروں میری نمازوں کے سجدے آپ لوگوں اور دیگر بنی نوع انسان کے لئے وقف ہوتے ہیں۔میں اس حق کو ادا کرتا ہوں جو آپ کا مجھ پر ہے۔اس کے لئے میں کسی اجر کا طالب نہیں۔میرا اجر میرے مولی کے پاس ہے۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس تعلق میں جو فرض آپ پر عائد ہوتا ہے۔وہ آپ پورا کریں۔میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ لوگ میرے مقاصد کے حصول کے لئے بڑی کثرت کے ساتھ ، بڑی توجہ کے ساتھ اور تمام لوازم اور شرائط کی پابندی کے ساتھ دعائیں کرتے رہیں گے۔قافلہ یورپ کے خوش نصیب ارکان بعض مصالح اور مجبوریوں کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس تقریب پر بہت مختصر سا قافلہ یورپ روانہ ہو۔اس قافلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ساتھ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر ، چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے پرائیویٹ سیکرٹری اور عبد المنان صاحب دہلوی خادم خاص کو ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔مزید برآں حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ (حضور کی حرم ) اور محترمہ سیده طیبه بیگم صاحبہ ( بیگم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) اپنے خرچ پر حضور کے ہمراہ شامل قافلہ ہو ہیں۔70 امیر مقامی اور امام الصلوۃ کا تقرر حضور نے سفر یورپ سے واپسی تک کے لئے ربوہ میں صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو امیر مقامی اور مولانا ابوالعطاء صاحب کو امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔نیز ارشاد فرمایا کہ مولانا کی غیر حاضری میں مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری یا مولوی عبد الرحمن صاحب انو رامام الصلوۃ ہوں گے۔اس کے علاوہ حضور نے مولانا ابوالعطاء صاحب کو مجلس انصاراللہ مرکز یہ کا قائم مقام صدر اور شیخ محبوب عالم خالد صاحب کو قائم مقام نائب صدر مقرر فرمایا۔72