تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 862 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 862

تاریخ احمدیت۔جلد 24 840 سال 1968ء (DOCTOR'S ASSISTANTS) کا وفد ، نیدرلینڈ ہرور مڈ چرچ NEDERLAND) (HERVORMDE کے پادریوں کا گروپ اور اوستروج (OOSTERWIJK) سے ایک وفد۔ان وفود کے علاوہ مشن ہاؤس میں زائرین کی آمد کا سلسلہ زور شور سے جاری رہا۔اور ہالینڈ میں پھیلے ہوئے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ ، طلباء اور دیگر بہت سے ڈچ لوگ اسلام واحمدیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے پہنچے۔بلکہ دوسرے یورپین ممالک نیز امریکہ، سورینام، اردن ، سعودی عرب، کویت، تیونس، مراکش، مصر، ایران، افغانستان ، ترکی ، عراق اور پاکستان کے احباب مشن ہاؤس میں تشریف لائے۔اور مطلوبہ معلومات اور لٹریچر حاصل کیا۔زائرین میں ہیگ کی سول کورٹ کے ایک حج اور پاکستان کے ایک اہم سرکاری محکمہ کے انچارج اور مصر کے بعض انجینئرز کے علاوہ ہالینڈ کی صوفی جماعت کے نئے لیڈر ڈاکٹر فضل عنایت خاں صاحب بھی تھے۔جو اس جماعت کے مرحوم لیڈر مشرف خاں صاحب ( اصل وطن ریاست بڑودہ۔جماعت احمدیہ سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔۱۹۶۷ء میں جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث ہالینڈ تشریف لے گئے تو انہوں نے اپنی بیگم کے ہمراہ حضور سے شرف ملاقات حاصل کیا) کے بھتیجے ہیں۔اور کیلیفورنیا یو نیورسٹی امریکہ سے تعلیم یافتہ۔ڈاکٹر موصوف کو جناب اکمل صاحب اور مولوی صلاح الدین خاں صاحب بنگالی نے خوش آمدید کہا اور تبادلہ خیالات کیا۔نیز مشن کی طرف سے ان کی خدمت میں کتاب ”احمدیت پیش کی۔روٹرڈم (ROTTERDAM) کی ایک جہاز ساز فرم کی دعوت پر مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نے ایک بحری کرین کے سمندر میں اتارنے کا افتتاح قرآنی آیات کی تلاوت اور دعاؤں سے کیا۔یہ کرین مشرقی پاکستان میں استعمال کے لئے خریدی گئی تھی۔قرآنی آیات کی تلاوت کے بعد چوہدری صلاح الدین خان صاحب بنگالی نے حاضرین سے انگریزی میں خطاب کیا۔اس موقع پر کئی انجینئر زو کمپنی کے مالک، افسران اور ان کے دوست وغیرہ بھی موجود تھے۔بعد میں جب کمپنی کے ڈائریکٹر نے پاکستانی انجینئروں کو بعض تحائف دیئے تو انہیں احمدیہ مشن ہالینڈ کی طرف سے اسلامی اصول کی فلاسفی اور جماعت احمدیہ کے تعارف سے متعلق لٹریچر پیش کیا گیا۔جناب عبدالحکیم صاحب اکمل انچارج ہالینڈ مشن کو جمہور یہ انڈونیشیا کے سفیر صاحب کی طرف سے دی گئی ایک دعوت میں شرکت کا موقع ملا۔جس کے دوران آپ کی انڈو نیشیا کے کیتھولک بشپ