تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 70 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 70

تاریخ احمدیت۔جلد 24 70 سال 1967ء ہے کہ ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صداقت قبول کرنے کی توفیق دے اور وہ اپنے رب کو پہنچانے لگیں اور آپ کا یہ بھی فرض ہے کہ آپ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔دین کا غلبہ ہم سے ایک موت نہیں ہزاروں موتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ہمیں چاہیئے کہ اپنی جان، وقت ، اولاد، جذبات اور دنیوی تعلقات اس کے حضور پیش کریں۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے اس خطاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: ”میرا یہ سفر بڑا ہی اہم ہے۔میں اہلِ یورپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے لئے اب تباہی سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔وہ یہ کہ وہ اپنے خُدا کو پہچانیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھنڈی چھاؤں تلے جمع ہو جائیں۔آر بھی دعا کریں کہ ان باتوں کو میں احسن طریق پر وہاں پیش کر سکوں تا بچنے والے بچ جائیں۔اور جو تباہ ہو نیوالے ہوں وہ دوسروں کے لئے عبرت بنیں اور دنیا کو پتہ لگ جائے کہ ایک زندہ اور قادر مطلق خُدا موجود ہے۔ہر چیز اس کے علم میں ہے۔دنیا اور انسان کی ہمدردی کی خاطر وہ وقوع سے قبل یہ باتیں بتا دیتا ہے تا لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے غضب سے بچ جائیں۔“ حضور نے تقریر ختم کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری زبان میں اثر پیدا کرے۔تاان کے دل صداقت کو قبول کریں۔اور وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی بجائے رحمت کو پانے والے ہوں۔اسلام کے نالہ کادن نزدیک تر ہواور اپنی زندگیوں میں ان بشارتوں کو 66 پالیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی تھیں۔“ حضور کا یہ نہایت پر اثر اور رقت آمیز خطاب قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔خطاب کے بعد حضور نے ایک لمبی اور پُر سوز دعا فرمائی اور خدا حافظ کہہ کر تشریف لے گئے اہل ربوہ سے دردانگیز خطاب 68- اگلے روز ۵ جولائی ۱۹۶۷ء کو حضور نے بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں اہلِ ربوہ اور بیرونجات