تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 850 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 850

تاریخ احمدیت۔جلد 24 828 سال 1968ء کی روک تھام اور قیام امن کیلئے بعض ضروری اقدامات کئے۔ایک مرتبہ گورنر صاحب سے بھی ملاقات کی اور بعض اہم مسائل کی طرف ان کی توجہ دلائی گئی جس پر فوری اقدام کیا گیا اور روز ہل میں راتیں خوف سے جاگ کر گزارنے والے خدا تعالیٰ کے فضل سے امن و چین کی نیند سونے لگے۔اچانک ایک رات عیسائیوں کے علاقہ میں تین چار مسلمانوں کے گھروں پر حملہ ہوا اور پتھروں سے مکانوں کے شیشے وغیرہ تو ڑ دیئے گئے۔دوسرے دن وہ مکان خالی تھے اور مسلمان خوفزدہ کہ اب کیا ہوگا ؟ مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر فوری طور پر امن کمیٹی کے صدر سے ملے جو کیتھولک پادری ہیں اور انہیں تجویز پیش کی کہ مسلمانوں کے ان مکانوں کی مرمت خود اس علاقہ کے عیسائیوں سے کروائی جائے اور دوسرے یہ تجویز ہوئی کہ اتوار کے دن چرچ میں ریزولیوشن پاس کر کے اس غنڈہ گردی کی مذمت کی جائے۔ہر دو امور پر فوراً عمل ہو گیا اور فساد رک گیا۔اپنے مکان چھوڑ کر بھاگنے والے مسلمان اپنے گھروں میں واپس لوٹ آئے۔اور اس کی خبر اور تصاویرا اکثر روز ناموں میں شائع ہوئیں اور سارے ملک نے اس کو سراہا گو ایک عیسائی اخبار نے مسلمانوں کی مدد کرنے پر پادری صاحب کی مذمت بھی کی۔پورٹ لوئیس میں فسادات کی وجہ سے سینکڑوں خاندانوں کو مجبور ہو کر اپنے گھروں سے نکل کر مسلمانوں کے علاقہ میں پناہ لینی پڑی۔قریباً ایک سو خاندان روز ہل چلے آئے۔دوسری طرف یہی حال عیسائیوں کا تھا مگر کئی عیسائی ادارے ان کی مدد کیلئے مصروف عمل تھے نیز حکومت بھی ان کی ہر ممکن مدد کر رہی تھی۔پورٹ لوئس میں مسلمان مہاجرین کی مدد کیلئے فوری طور پر چند نو جوانوں نے مل کر کمیٹی بنائی اور کام شروع ہو گیا۔روزہل میں عیسائیوں کی مدد تو ہو رہی تھی مگر مسلمانوں کا پرسان حال کوئی نہ تھا۔چنانچہ مولوی صاحب نے خطبہ جمعہ میں احمدی احباب کو اس ضمن میں تحریک کی اور انہوں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان جماعت کے مرکز دار السلام بھجوانا شروع کر دیا اور جماعت نے پندرہ روز تک ۵۰۰ سے زائد مہاجرین کو کھانا فراہم کیا۔ہر خاندان کو پہنے کے لئے کپڑے مہیا کئے۔نیز گورنمنٹ کے افسران اور وزیر متعلقہ سے مل کر ان کو مالی امداد بھی دلوائی۔جماعت کے ذریعہ انجام پانے والے اس کار خیر سے متاثر ہو کر بہت سے ہمدرد دوستوں نے نقدی اور سامان بھی بھجوایا۔مقامی ٹاؤن کونسل سے بھی مدد حاصل کی گئی جو اس سے پہلے صرف عیسائیوں کی مدد کر رہی تھی۔ریڈ کر اس نے بھی کچھ رقم بھجوائی نیز بعض عیسائی دوستوں نے خود دار السلام آکر امدادی رقوم کے چیک پیش کئے۔