تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 68
تاریخ احمدیت۔جلد 24 68 سال 1967ء ہے۔وہاں کے دوستوں کی یہ خواہش تھی کہ میں خود اس مسجد کا افتتاح کروں اور جب ہم اس تجویز پر غور کر رہے تھے تو دوسرے ممالک جو یورپ میں ہیں جہاں ہمارے مبلغین ہیں اور مساجد ہیں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر افتتاح کے لئے آپ نے آنا ہے تو اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام مشنز کا دورہ بھی کریں، حالات کو دیکھیں ، ضرورتوں کا پتہ لیں اور اس کے مطابق سکیم اور منصوبہ تیار کریں۔پھر انگلستان والوں کا یہ مطالبہ ہوا کہ اگر یورپ میں آنا ہے تو انگلستان کو بھی جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بڑی جماعت پیدا ہوگئی ہے اپنے دورہ میں شامل کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف لنڈن میں قریب پانچ سواحمدی موجود ہیں۔بڑی جماعت تو لنڈن میں پائی جاتی ہے۔لیکن بعض دوسرے مقامات پر خاصی بڑی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔۔۔۔پس میں چاہتا ہوں کہ تمام دوست اس سفر کے متعلق دعائیں کریں اور خدا تعالیٰ سے خیر کے طالب ہوں۔اگر یہ سفر مقدر ہو تو اسلام کی اشاعت اور غلبہ کیلئے خیر و برکت کے سامان پیدا ہوں۔خدا جانتا ہے کہ سیر و سیاحت کی کوئی خواہش دل میں نہیں ، نہ کوئی اور ذاتی غرض اس سے متعلق ہے۔دل میں صرف ایک ہی تڑپ ہے اور وہ یہ کہ میرے رب کی عظمت اور جلال کو یہ تو میں بھی پہنچانے لگیں جو سینکڑوں سال سے کفر اور شرک کے اندھیروں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں اور انسانیت کے محسن اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے دلوں میں قائم ہو جائے تا کہ وہ ابدی زندگی اور ابدی حیات کے وارث ہونے والے گروہ میں شامل ہو جائیں تا ان کی بد بختی دور ہو جائے تا شیطان کی لعنت سے وہ چھٹکارا پالیں تا شرک کی نحوست سے وہ آزاد ہو جائیں تابد رسوم کی قیود سے وہ باہر نکالے جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی محبت اور اس کے حسن اور اس کے احسان اور اس کے نور کے جلوے وہ دیکھنے لگیں تا وہ وعدہ پورا ہو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے دیا تھا کہ میں تیرے فرزند جلیل کے ذریعہ سے تمام قوموں کو تیرے پاؤں کے پاس لا جمع