تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 834 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 834

تاریخ احمدیت۔جلد 24 812 سال 1968ء کر اسے بجھا دیا۔جب مجھے اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو میں فوراً وہاں پہنچا اور دیکھا کہ آگ سے بفضل خدا سوائے ایک آدھ تختے جل جانے کے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔میں پولیس اسٹیشن گیا جہاں چوکیدار نے رپورٹ درج کرادی تھی وہاں پولیس آفیسر نے از خود مجھے کہا کہ انہیں قریبا علم ہو چکا ہے کہ کون اس گھناؤنے فعل کا ذمہ دار ہے لیکن ابھی وہ اس کا نام ظاہر نہیں کر سکتا۔کچھ عرصہ بعد ہمیں بتا دیا جائے گا۔لیکن اس کے بعد باوجود دریافت کرنے کے اس نے بالکل چپ سادھ لی۔میں سمجھ گیا کہ اس کے پیچھے جا کے کسی سرکردہ معاند کا ہاتھ ہے اس لئے صبر و دعا ہی بہتر ہے اور وہی ہمارا اصل ہتھیار ہے۔اس کے تھوڑا عرصہ بعد جب میں برادرم شیخ عبدالواحد صاحب کی معیت میں ہا گیا۔جب ہماری موٹر اس مقام پر پہنچی جہاں ہم نے کھڑے ہو کر چند ماہ پہلے خیر و برکت کی دعا مانگی تھی تو بائیں طرف کی بیرونی آبادی میں احمدیت کے ایک شدید سر کردہ مخالف ابوبکر کو یا کو حسرت و یاس کی تصویر بنے اس حال میں اپنے مکان کے ملبہ پر کھڑے دیکھا کہ اس کا سارا مکان بمعہ سامان کے جل کر راکھ 92 اور خاک ہو چکا تھا اور اس کے سیمنٹ کے سفید بنیادی ستونوں کے علاوہ کچھ نظر نہ آتا تھا۔یہ تو ظاہری طور پر اس کے مکان سے سلوک ہوا۔روحانی طور پر اس کا دل جلنے کے سامان پہلے ہی سے پیدا ہو چکے تھے وہ یہ کہ اس کا سگا بھانجا عزیز حنیف کو یا احمدیت کی آغوش میں آکر ہمارے لئے دلی راحت کا موجب بن گیا۔عزیز حنیف کو یا بفضل خدا بہت نیک اور مخلص نوجوان ثابت ہوا۔میرے عرصہ قیام نجی کے دوران وہ بڑے ذوق و شوق سے قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسباق لیتا رہا۔دینی تعلیم کے حصول اور تبلیغ کا اسے از حد شوق ہے“۔اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ماسٹر محمد حنیف صاحب کو یا کے وقف کو قبول فرما کر انہیں نجی کے پہلے مقامی واقف زندگی کا اعزاز بخشا اور ارشادفرمایا کہ انہیں نجی میں ہی دینی تعلیم دی جائے۔چنانچہ وہ اپنی ملازمت ترک کر کے مولوی نور الحق صاحب انور کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔آپ نے انہیں دن رات ایک کر کے قرآن کریم، حدیث ، عربی، اردو اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسباق دے کر بہت جلد اس قابل بنادیا کہ انہوں نے قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے علاوہ اس کے ابتدائی حصہ کا ترجمہ بھی سیکھ لیا۔عربی سے خاصہ میں ہو گیا اور اردوزبان روانی کے ساتھ پڑھنے لگے۔