تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 822
تاریخ احمدیت۔جلد 24 800 سال 1968ء بچوں کے لئے تعلیم و تدریس، آرٹ، تکنیکی کتب و نقشہ جات اور متفرق کے حساب سے آٹھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔اس نمائش میں عمدہ و بیش قیمت کاغذ پر طبع شدہ قرآن پاک کا جرمن زبان میں ترجمہ اس کے عربی متن کے ساتھ موجود تھا جس کی اشاعت کی سعادت جرمنی کے احمد یہ مشن کے حصہ میں آئی تھی۔مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب ایم اے مبلغ مغربی جرمنی اور مکرم محمود اسماعیل زولش کو اسلام کے بارہ میں بہت سی تقاریر کرنے کا موقع ملا۔سیکنڈری سکولوں میں موازنہ مذاہب پر لیکچر دیئے۔تین ماہ میں لیکچر مختلف اسکولوں میں دیئے گئے۔لیکچرز کے بعد سوالات کا موقع بھی دیا جا تا رہا۔ایک سکول میں طالبات نے مزید ایک لیکچر کا مطالبہ کیا جو کہ مسجد میں دیا گیا جس میں لڑکیوں کی دوکلاسوں کی پچاس طالبات شامل ہوئیں۔رمضان المبارک اور عیدالفطر رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اس موضوع پر ایک پریس نوٹ شائع کر کے ملک بھر کے ایک سو سے زائد اخبارات کو برائے اشاعت ارسال کیا گیا۔اس نوٹ کے ملنے پر ریڈیو فرانکفورٹ نے رمضان کے آغاز پر ایک خاص پروگرام نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب ایم اے مبلغ مغربی جرمنی کو ریڈیو اسٹیشن پر آنے کی دعوت موصول ہوئی اور انٹرویو کا وقت مقرر ہوا۔چنانچہ یکم رمضان المبارک کو یہ انٹرویو ریڈیو سے نشر ہوا۔اسی طرح پر غیر زبانوں میں نشریات کرنے والے ریڈیو اسٹیشن 'وائس آف جرمنی نے جو کہ کولون میں ہے مبلغ انچارج سے رابطہ کر کے رمضان کے آغاز پر اردو اور عربی زبانوں میں تقاریر کی فرمائش کی۔چنانچہ آٹھ آٹھ منٹ کی تقاریر کے ریکارڈ فرانکفورٹ ریڈیو اسٹیشن والوں نے تیار کر کے کولون بھجوائے جو کیم رمضان المبارک کو وائس آف جرمنی کے اردو اور عربی پروگراموں میں نشر ہوئے۔رمضان المبارک کے آغاز پر مسجد میں ایک افطار پارٹی کا انتظام کیا گیا۔اس موقع پر ملائیشیا کے سفیر جناب عبدالخالد آوانگ نے قرآن کریم کی اہمیت کے موضوع پر تقریر کرنا تھی لیکن بوجہ بیماری تشریف نہ لا سکے اور اپنے دو نائبین کو بھجوا دیا۔چنانچہ ان کے نائب سفیر صاحب موصوف کی لکھی ہوئی تقریر جرمن زبان میں حاضرین کو پڑھ کر سنائی گئی۔رمضان کے بعد عیدالفطر کی تقریب پورے اسلامی وقار کے ساتھ منائی گئی۔مختلف مسلم ممالک کے ۲۰۰ کے قریب مسلمانوں نے نماز عید میں شرکت کی