تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 821 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 821

تاریخ احمدیت۔جلد 24 799 71 سال 1968ء طعام کا پروگرام رکھا گیا تھا جس میں ۳۰ معزز مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۶۸ء کو مسجد نور فرانکفورٹ جرمنی میں عید الاضحیہ کی تقریب اسلامی روایات کے ساتھ منائی گئی۔مسلمانوں کے علاوہ مشن سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم جرمنوں کو بھی دعوت نامے بھجوائے گئے۔مکرم مسعود احمد صاحب جعلی مبلغ مغربی جرمنی نے نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا۔خطبہ کے بعد غلبہ اسلام کے لئے اجتماعی دعا کی گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا ربوہ سے عید مبارک کا پیغام بذریعہ تار بھی بھجوایا گیا۔عید کے اگلے روز شام کو ایک وسیع دعوت عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مسلمانوں کے علاوہ متعدد جر من احباب نے بھی شرکت کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی ونڈ زورتھ والی شہرۂ آفاق تقریر کا جرمن ترجمہ چھپوا کر ملک کے تمام 72 معززین تک پہنچایا گیا۔محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی ہمبرگ آمد محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وقف عارضی کے سلسلہ میں مورخہ ۱۶ جولائی تا ۲۷ جولائی ۱۹۶۸ء تک کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں مقیم رہے۔اس پروگرام کے اختتام پر ہالینڈ واپس جاتے ہوئے مکرم چوہدری صاحب ایک دن کیلئے ہمبرگ میں قیام فرما ہوئے۔آپ کے اس قیام کے دوران ہمبرگ میں احمدیہ جماعت نے ایک جلسہ مورخہ ۲۸ جولائی ۱۹۶۸ء کو منعقد کیا۔جس میں عوام الناس کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں کے عمائدین کو بھی مدعو کیا۔آپ نے اپنی تقریر میں حاضرین کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروائی کہ تمام مذاہب میں قدر مشترک خدا تعالی کی عبادت ہے اور اس کی بناء پر تمام مذاہب میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے۔اگلے روز اخبارات نے محترم چوہدری صاحب کی تقریر کو نمایاں طور پر اپنے کالموں میں جگہ دی اور اس طرح اسلام کی آواز کو دور دور تک پہنچایا۔مورخه ۹ استمبر تا ۲۴ ستمبر ۱۹۶۸ء موسم خزاں میں جرمنی کے اہم ترین شہر فرانکفورٹ میں اٹھاون ممالک کے ۳۰۱۳ پبلشنگ اداروں کی طرف سے ایک لاکھ اسی ہزار کتب کی نمائش ہوئی۔اس سال شرکت کرنے والے ۳۰۱۳ پبلشنگ اداروں میں سے ۱۹۶۶ار انفرادی ادارے تھے جن میں سے ۸۳۰ مغربی جرمنی اور ۴۴ مشرقی جرمنی سے تعلق رکھتے تھے۔باقی ۱۰۷۲ غیر ملکی تھے۔اس سال نمائش کے لئے پیش ہونے والی ایک لاکھ اسی ہزار کتب میں سے ساٹھ ہزار سال رواں کی ہی مطبوعہ تھیں۔نمائش ایک لاکھ دس ہزار مربع فٹ رقبہ کے دو وسیع وعریض ہالوں پر مشتمل تھی۔جسے ادب لطیف ، مذہب ، 74