تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 816 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 816

تاریخ احمدیت۔جلد 24 794 سال 1968ء یہ بھی ذکر کیا کہ مسیح کی آمد ثانی کی بہت سی علامتیں پوری ہو چکی ہیں تاہم تیسری عالمی جنگ ہونے والی باقی ہے۔اس کے بعد مسیح کی آمد متوقع ہے۔انہوں نے شام کو یہ تقریر کی اور مولوی جمیل الرحمن صاحب رفیق انچارج تنزانیہ مشن نے ۲۵ جولائی کی صبح کو اشتہار کی صورت میں اس پر تبصرہ کیا جو دار السلام میں کثرت سے تقسیم کیا گیا اور اس کی ایک کاپی پادری صاحب کو بھی ارسال کر دی۔اس اشتہار میں آپ نے انہیں چیلنج کیا کہ وہ اپنے ان الفاظ کے ثبوت میں کسی اسلامی کتاب کا حوالہ پیش کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تمام انبیاء ورسل سے افضل و برتر ہیں۔کوئی نبی حضور ﷺ کے ساتھ رتبہ میں برابر نہیں ہوسکتا۔۔۔نیز مسیح کی آمد ثانی کی علامتوں کے بارہ میں آپ نے لکھا کہ یہ علامتیں بے شک آہستہ آہستہ ظاہر ہونی مقدر تھیں اور سلسلہ وارظاہر ہوئیں مگر ان علامتوں میں سے سورج و چاند کوگر ہن لگنے کی علامتیں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق انجیل میں صریح طور پر لکھا ہے کہ اس وقت مسیح آجائیں گے۔چنانچہ متی نمبر ۲۹-۲۴/۳۰ میں لکھا ہے: اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی سب قو تیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔۔۔اس عبارت سے بالکل عیاں ہے کہ سورج و چاند کو گرہن لگنا مسیح کی آمد ثانی کی حتمی نشانی ہے۔مسیح کی آمد اس علامت سے تجاوز نہیں کر سکتی۔لہذا تیسری عالمی جنگ کا انتظار فضول اور عبث ہے۔مذکورہ گرہن انیسویں صدی کے اواخر میں لگ چکا ہے اور آپ لوگ اس کا اقرار کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب SIGNS OF CHRISTS COMING ( مسیح کی آمد کی علامات) میں تحریر کیا ہے۔مولوی جمیل الرحمن صاحب رفیق نے مزید لکھا کہ ان علامات کے پورا ہونے کے دنوں میں فی الواقع مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی ذات میں پوری ہو چکی ہے۔سب جانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کے وقت بائبل کے مطابق یہودی تین انبیاء کا انتظار کر رہے تھے۔(۱) ایلیا نبی کا جو ان کے عقیدہ کے مطابق آسمان پر چلا گیا تھا اور مسیح علیہ السلام کی آمد سے قبل اس نے آسمانوں سے نزول کرنا تھا۔(۲) مسیح۔(۳) وہ نبی“۔مسیح جب 66 وو 66 تشریف لائے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے قبل تو ایلیا نبی نے آسمان سے نازل ہونا تھا۔اس پر مسیح