تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 810 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 810

تاریخ احمدیت۔جلد 24 788 سال 1968ء احباب مسجد فضل لندن میں جمع ہوئے جہاں اجتماعی دعا ہوئی اور انہیں مناسب ہدایات دی گئیں۔اس کے بعد احباب روانہ ہوئے انہوں نے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جن پر صداقت اسلام کے متعلق مختلف فقرات درج تھے۔اس موقع پر تمیں ہزار اشتہارات بھی تقسیم کئے گئے۔احباب دن بھر سڑکوں گلیوں کو چوں میں پھر کر تبلیغ اسلام کرتے رہے اور لٹر پھر بھی تقسیم کیا نیز لوگوں کے سوالات کے جوابات دے کر انہیں اسلام کے متعلق معلومات بہم پہنچا ئیں گئیں۔مختلف طبقات اور مختلف ممالک کے افراد نے اسلام میں گہری دلچسپی لی۔احمدی بچوں نے بھی بڑے جوش سے تبلیغ اسلام میں حصہ لیا۔58 سال ۱۹۶۸ء کا چوتھا اور آخری یوم التبلیغ و راکتو بر کو پر جوش طریقے سے منایا گیا۔اسلام کے خوبصورت پیغام پر مبنی ایک سو کے قریب بڑے بڑے چارٹس اور پلے کارڈ ز تیار کئے گئے۔احباب کو گروپوں میں تقسیم کر کے مسجد فضل سے اجتماعی دعا کے ساتھ رخصت کیا گیا۔اس دن ہزاروں کی تعداد میں لٹریچر کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچایا گیا۔حلقہ ساؤتھ ہال میں جب دوست پلے کارڈ اٹھائے ہوئے روانہ ہوئے تو ایک انگریز نے جو پاس سے گزر رہا تھا بڑے غصہ سے کہا کہ اگر تم نے یہ پلے کارڈ کہ Jesus did not die on the cross دکھانا بند نہ کیا تو فساد ہو جائے گا۔تب ان کو سمجھایا گیا کہ میچ کے صلیب سے بچ جانے میں تو ان کی عزت ہے۔صلیب پر وفات پا جانا تو لعنتی موت ہے اور ہم ایک لحظہ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کے کسی برگزیدہ بندہ کولعنتی قرار نہیں دے سکتے۔ایک پادری صاحب نے ایک گروپ لیڈر سے دوران بحث کہا کہ تمہاری یہ بات کہ مسیح مصلوب نہیں ہوئے مان لی جائے تو پھر عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ساؤتھ ہال کے متعدد اخبارات میں یوم التبلیغ کی کارگزاری شائع ہوئی۔دو اخبارات Southall Post اور Hayes Post نے پہلے صفحہ پر تصویر کے ساتھ اس دن کی مفصل کارروائی شائع کی۔ہڈرزفیلڈ جنھم کرائیڈن، گلاسگو، برمنگھم، برسٹل اور بریڈفورڈ کی جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر پیغام حق پہنچایا۔چاروں ایام التبلیغ کے نتائج ان ایام التبلیغ سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اخبارات کی توجہ اسلام کی طرف ہوئی۔