تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 799
تاریخ احمدیت۔جلد 24 777 سال 1968ء ۱۹۶۶ء میں انگلستان میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف سخت تدابیر اختیار ہونی شروع ہو گئی تھیں ہم بمعہ اہل وعیال ترکی واپس کو ٹنے ہی والے تھے کہ بالکل ہی خلاف امید جگہ پر یعنی ناروے میں مجھے کام ملنے کی صورت پیدا ہو گئی اور ہم اوسلو (OSLO) روانہ ہو گئے۔ایک دن میری بیوی نے ناروے کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار AFTENPOSTEN میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ دیکھئے ایک نارویجین دین اسلام کی مدافعت کر رہا ہے“۔۲۰ جنوری ۱۹۶۸ء کی تاریخ کے اس اخبار کے ضمیمہ میں ٹرولس بولسٹاڈ (TRULS BOLSTAD) نام کے ایک نارو یحین نے اخبار میں اس سے پہلے شائع ہونے والے ایک مضمون میں دین اسلام کے بارہ میں غلط اور نا تمام معلومات کے موجود ہونے کی نشاندہی کی ہوئی تھی۔نیز یہ بیان کیا ہوا تھا کہ :۔دین اسلام صاحب مضمون کے دعوئی کے مطابق مختلف مذاہب اور ادیان کے مجموعہ کا نام نہیں۔ہم مسلمانوں کے نزدیک دیگر ادیان، انسانوں کو ایک مکمل دین کی خاطر تیار کرنے والے ہیں۔بذات خود یه ادیان مکمل دین یعنی دینِ اسلام تک پہنچنے کے لئے ایک زینہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ مسلمانوں کی تعداد دوصد یا تین صدملین نہیں ہے بلکہ یونیسکو (UNESCO) کی آخری (۱۹۶۷ء کی ) سالانہ رپورٹ کے مطابق ہم مسلمانوں کی تعداد چھ صد چھیاسٹھ ملین ہے۔ان مسلمانوں میں سے ہر سو ملین کے حساب سے ایک مسلمان ناروے میں موجود ہے۔میرے دل میں دین اسلام کا اس طرح دفاع کرنے والے اس نارویجین کے ساتھ متعارف ہونے کا بے حد شوق پیدا ہوا۔موصوف کے بیان کے مطابق دنیا کے مسلمانوں میں سے ہر سوملین کے حساب سے ایک مسلمان ناروے میں رہتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ناروے میں چھ یا سات مسلمان موجود ہیں میں نے اخبار کے مدیر التحریر کو ایک خط لکھا۔اس خط میں ہی ایک خط میں نے نارویجین مسلمان بھائی کے نام لکھ کر رکھ دیا۔اور مدیر صاحب سے گذارش کی کہ یہ خط مرسل الیہ تک پہنچا دیں کیونکہ اخبار میں ان کا پتہ موجود نہیں۔چند ہفتوں کے بعد نارویجین مسلمان بھائی (جن کا پرانا نام ٹرولس بولٹا ڈ TRULS BOLSTAD اور اسلامی نام نوراحمد ہے ) کا ایک خط مجھے ملا۔سولہ سال کی عمر میں اسلام کی نعمت سے مشرف ہونے والے اس بھائی کے ذریعہ پہلی بار مجھے اسلام میں احمدیہ تحریک کے بارہ میں علم ہوا۔اور میں نے ان کتب اور رسائل کا مطالعہ شروع کر دیا جو اس بھائی نے مجھے بھیجے تھے۔اسی اثناء میں میں نے ترکی میں اپنے ایک دوست کو خط لکھ کر مسیح موعود علیہ السلام کا 66