تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 793
تاریخ احمدیت۔جلد 24 771 سال 1968ء خلیفہ المسیح الرابع اپریل ۱۹۸۴ء میں یہاں تشریف لائے۔حضور نے واپسی پر جن الفاظ میں جماعت احمد یہ اسلام آباد کو مخاطب فرمایا وہ اس کی تاریخ کی سنہری یادگار ہیں۔جو کہ درج ذیل ہیں۔حضور نے امیر ضلع شیخ عبدالوہاب صاحب کو اپنے خط ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء میں تحریر فرمایا :۔آنے سے پہلے اسلام آباد کی جماعتوں کے ساتھ جو دن گذرے وہ تو اس وقت ( بھی ) خواب دکھائی دیتے تھے۔جب حقیقت تھے۔آپ کے پیار، آپ کی لہی محبت ، خلافت احمدیہ کے لئے آپ کے جذبہ فدائیت نے مجھے ایک مے سی پلا رکھی تھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب دن آیا اور کب رات گزر گئی۔اب جبکہ وہ دن خواب بن چکے ہیں۔ان خوابوں میں اب بھی آپ سب مجھے ملتے ہیں۔دنیا کی محبتوں کو بھلا راہ خدا کی محبتوں سے کیا نسبت، ان محبتوں کی خشت اول ہی آسمان کی رفعتوں میں رکھی جاتی ہے۔مختصراً میرا یہ پیغام سب کو دے دیں کہ آپ سب مجھے بہت یاد آتے ہیں اور بسا اوقات دعا کے آنسوؤں میں جھلکنے والی تصویر میں بن جاتے ہیں۔اللہ میرے ہر آنسو کو آپ کے لیے رحمتوں اور برکتوں کی برسات بنادے۔خدا حافظ فی امان اللہ۔اللہ مجھے آپ کی طرف سے ہمیشہ خیر کی خبر سنائے۔اور احمدیت کے لیے آپ سب کی اور میری بے قراری کو لازوال طمانیت میں بدل دے“۔دار الحکومت ہونے کی وجہ سے جماعت احمد یہ اسلام آباد کو تنظیمی شعبہ جات کے امور کے علاوہ رابطے کے بہت سے امور بھی سرانجام دینے ہوتے ہیں جس کی تفصیل مناسب نہیں۔بہر حال مرکز کے لیے مقامی جماعت ایک رابطہ کا ذریعہ ہے اور حتی المقدور جملہ امور، کماحقہ ادا کیے جاتے ہیں۔ستمبر ۱۹۸۸ء کے اختتام تک احمدیوں اور مسلمان بھائیوں کے لئے ایک ہی قبرستان تھا جو انتظامیہ کی طرف سے معین تھا۔لیکن اکتوبر ۱۹۸۸ء میں بعض مخالفین کے معاندانہ رویہ اور مطالبہ پر انتظامیہ نے ایک مدفون شدہ احمدی کی نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر کسی اور جگہ دفن کرنے کیلئے کہا جس پر حکام سے درخواست کی گئی کہ احمدیوں کے لیے الگ قبرستان کے لیے پلاٹ دیا جائے ، جس پر انتظامیہ نے احمدیوں کے لیے علیحدہ قبرستان کی زمین الاٹ کر دی۔جس کا رقبہ پونے چارا یکڑ ہے۔۱۹۹۰ء میں اس کے گرد چاردیواری تعمیر کر دی گئی۔