تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 789
تاریخ احمدیت۔جلد 24 767 سال 1968ء مکرم چوہدری عبدالحق صاحب ورک پہلے امیر جماعت منتخب ہوئے۔موصوف یکم اگست ۱۹۶۸ء تا وفات دسمبر ۱۹۷۵ء امارت کے فرائض بطریق احسن سرانجام دیتے رہے۔ان کی رحلت کے بعد مارچ ۱۹۷۶ء تک مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب نائب امیر قائمقام امیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ازاں بعد مکرم لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالعلی ملک صاحب دوسرے امیر منتخب ہوئے۔انہوں نے مارچ ۱۹۷۶ء تا مارچ ۱۹۸۰ ء تک تقریباً ۴ سال امارت کے فرائض سرانجام دیئے اور ان کے بعد تیسرے امیر مکرم شیخ عبدالوہاب صاحب منتخب ہوئے۔آپ اپریل ۱۹۸۰ء تا اپریل ۱۹۹۱ ء تک امارت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔آپ کے بعد چوتھے امیر مکرم چوہدری علیم الدین صاحب امیر مقرر ہوئے جو اپریل ۱۹۹۱ء تا اگست ۱۹۹۸ء تک امارت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔آپ کے بعد مکرم انجینیر منیر احمد فرخ اگست ۱۹۹۸ء میں امیر مقرر ہوئے اور اکتوبر ۲۰۱۳ء سے مکرم ڈاکٹر عبدالباری صاحب امیر منتخب ہوئے۔اسلام آباد میں نئی جماعت قائم ہونے کے بعد اس کی اولین اور اہم بنیادی ضرورت ایک مسجد کی تعمیر تھی۔جہاں نمازوں کی ادائیگی کے علاوہ تربیتی امور کے لئے اجلاس منعقد کئے جاسکیں۔شروع شروع میں گھروں میں ہی مرا کز قائم کئے گئے۔اسی طرح نماز جمعہ بھی اجتماعی طور پر ایک گھر میں ادا کی جاتی رہی۔مگر احباب کی تعداد میں روز افزوں اضافہ کے باعث یہ امر نا گزیر تھا کہ جلد از جلد زمین حاصل کر کے مسجد کی تعمیر شروع کی جائے۔چنانچہ ترجیحی بنیادوں پر پلاٹ کے حصول کی کوشش شروع کی گئی۔اس مساعی کے نتیجہ میں غالبا ۱۹۶۷ء میں جی ۶/۲ میں انتظامیہ نے جماعت کو مسجد کے لئے ایک پلاٹ الاٹ کیا اس پر ایک کمرہ اور چھپر ڈالا گیا اور چاردیواری کے لئے کھدائی کی گئی مگر مخالفت کے باعث شر پسند عناصر نے اسے آگ لگا کر جلا دیا۔بعد ازاں مقامی لوگوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد حکام نے مجبوراً ایک پلاٹ الیف ۷/۳ میں الاٹ کیا۔اس پلاٹ کی زمین ہموار نہ تھی بلکہ اس میں جا بجاوسیع اور عمیق گڑھے تھے اور ایک بہت بڑا نالہ بھی اس سے ملحق تھا۔پلاٹ کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد فوری طور پر چار دیواری تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے نقشہ کی منظوری بنیادی قدم تھا چنانچہ قدرت ثانیہ کے مظہر ثالث کی خصوصی توجہ اور راہنمائی کے تحت نقشہ تجویز کیا گیا اور اس کی منظوری محکمہ متعلقہ سے حاصل کی گئی۔اس وقت کے امیر جماعت مکرم عبد الحق صاحب ورک کی نگرانی