تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 780
تاریخ احمدیت۔جلد 24 758 سال 1968ء ۱۹۴۸ء سے دسمبر ۱۹۶۷ء کے دوران ۳۷۰۹۷۸ مسلمانوں اور ۲۷۳۷۹۰ غیر مسلموں کا علاج کیا گیا۔ڈاکٹروی۔کے گپتا صاحب نے شفا خانہ کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور عملہ کی خدمت خلق کی ان بہترین مساعی پر جو وہ بلا تفریق مذہب و ملت انیس برس سے انجام دے رہا تھا ، اظہار پسندیدگی کیا۔اور معاینہ بک پر انگریزی میں اپنے تاثرات بھی درج فرمائے جن کا اردو تر جمہ یہ ہے:۔ہسپتال کا معاینہ کیا گیا اور اسے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں یکساں طور پر بہت زیادہ مقبول پایا۔ان ایام میں ڈاکٹر غلام ربانی صاحب شفا خانہ میں انچارج کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔سینئر ڈپٹی جنرل میجر ریلوے قادیان میں 29 اس سال کے شروع میں بھارت کی لوک سبھا میں یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ محکمہ ریلوے غیر منافع بخش لائنوں کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اور ان میں بٹالہ قادیان ریلوے لائن بھی شامل ہے۔اس پر جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے آنریبل ریلوے منسٹر صاحب گورنمنٹ آف انڈیا کی خدمت میں جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے میمورنڈم بھجوایا گیا تھا کہ قادیان ھو لی شرائن میں سے ہے جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔اور انٹرنیشنل شہرت کا حامل ہے۔ریلوے بند ہونے سے جہاں عوام کو پریشانی ہوگی وہاں غیر ممالک سے آنے والے اور ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے قادیان آنے والے زائرین کو بہت تکلیف ہوگی۔جب حکومت اپنی شہرت اور نیک نامی کے لئے پلیٹی پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے تو اپنی نیک نامی اور شہرت کی خاطر بٹالہ قادیان ریلوے لائن کو بھی قائم رکھ سکتی ہے۔اگر صیح لائنوں پر یہ ریلوے کام کرے تو نقصان کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔جبکہ عرصہ چالیس سال سے یہ ریلوے قائم ہے۔اس لئے اس کو وقتی طور پر خسارہ کے عذر پر بند کر دینا مناسب نہیں ہے۔اس سلسلہ میں چوہدری مبارک علی صاحب ایڈیشنل ناظر امور عامه صدر انجمن احمد یہ قادیان چندی گڑھ اور دہلی بھی تشریف لے گئے اور صوبائی و مرکزی حکومتوں کے ذمہ دار افسران اور محکمہ ریلوے کے افسران سے ملے۔اس موقعہ پر یہ معاملہ بھی زیر غور آیا کہ ریلوے کا کوئی اعلیٰ افسر قادیان بھجوا کر دوبارہ حالات کا جائزہ لیا جائے۔چنانچہ مورخہ ۱۲ مارچ کو شری ایل ڈی پنے صاحب سینئر جنرل مینجر ناردرن ریلوے نئی دہلی سے قادیان تشریف لائے۔ان کی آمد پر تمام اہالیانِ شہر نے سکھ نیشنل کالج کی عالیشان عمارت میں ان کا