تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 781 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 781

تاریخ احمدیت۔جلد 24 759 سال 1968ء استقبال کیا اور تشریف آوری پر انہیں خوش آمدید کہا اور احباب کا ان سے تعارف کرایا گیا۔اس موقعہ پر شیخ عبدالحمید صاحب عاجز بی۔اے نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ قادیان عالمگیر شہرت کا مالک ہے۔اور مقدس مقامات میں سے ہے۔تمام دنیا میں بسنے والے احمدیوں کا صدر مقام ہے۔غیر ممالک اور ہندوستان کی چہار اطراف سے لوگ برکت اور زیارت کے لئے قادیان آتے ہیں۔ریلوے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت کی تکلیف ہوگی۔جہاں حکومت اپنی شہرت کے لئے پبلسٹی پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتی ہے۔تو قادیان کے مذہبی سنٹر اور عالمگیر شہرت کی وجہ سے اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر ریلوے لائن قائم رکھنی چاہیئے۔جناب سردار پر یتم سنگھ صاحب بھائیہ اور شری رام پر کاش صاحب پر بھا کرنے بھی آپ کی تائید کی۔ازاں بعد سینئر ڈپٹی مینجر احمد یہ ایریا میں تشریف لائے۔جہاں جماعت احمدیہ کے چیف سیکرٹری اور معزز عہدیداران نے ان کا خیر مقدم کیا۔احمد یہ گیسٹ ہاؤس میں ان سے حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ، شیخ عبدالحمید صاحب عاجز بی۔اے، ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے اور مولوی عبد القادر صاحب دہلوی پر مشتمل وفد نے ملاقات کی۔اور قادیان کی عالمی اہمیت اور آئندہ ترقی پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ غیر ممالک اور ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ بکثرت زیارت اور جلسوں میں حصول برکت کے لئے آتے ہیں۔ریلوے نہ ہونے کے باعث یقیناً ان کو تکلیف ہوگی۔اور یہ بھی بتایا کہ فرسٹ سیکنڈ کلاس اور دوسرے درجوں کے ٹکٹ امرتسر سے بنتے ہیں۔اور ریز رویشن بھی وہیں سے ہوتی ہے۔حالانکہ یہ قادیان کی سواریاں ہوتی ہیں۔اس طرح بجٹ آمد میں اس کا شمار نہیں کیا جاتا۔حالانکہ ان کا شمار قادیان کے ریلوے بجٹ آمد میں ہونا چاہیئے۔جس سے انہوں نے اتفاق کیا۔ان کو قرآن کریم انگریزی تبلیغ اسلام دنیا کے کناروں تک اور دوسرا لٹریچر پیش کیا گیا۔انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ قادیان کی عالمی حیثیت کے پیش نظر تقسیم ملک سے قبل اور بعد ہندوستان کی بڑی بڑی شخصیات قادیان آتی رہی ہیں۔ہندوستان کے مختلف صوبوں سے قادیان آ کر یہاں کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والے سٹوڈنٹس بھی کافی تعداد میں ان کے سامنے پیش کئے گئے۔جن سے انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کس کس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔جنرل مینجر صاحب نے یقین دلایا کہ تمام ضروری امور کو ریلوے منسٹری کے ذمہ دار اراکین تک پہنچا دیا جائے گا۔تا کہ وہ فیصلہ کرتے وقت ان باتوں کو مد نظر رکھیں۔30