تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 61
تاریخ احمدیت۔جلد 24 61 سال 1967ء اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ہر بدعت اور بدرسم کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھ اس جہاد میں شریک ہوں گے اور اپنے گھروں کو پاک کرنے کے لئے شیطانی وسوسوں کی سب راہوں کو اپنے گھروں پر بند کر دیں گے۔دعاؤں کے ذریعہ اور کوشش کے ذریعہ اور جد وجہد کے ذریعہ۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماء الله مرکزیہ کی زیر ہدایت لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی طرف سے حضور کا یہ خطبہ نہایت وسیع پیمانے پر ٹریکٹ کی صورت میں شائع کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ اسے ہر احمدی گھرانے تک پہنچا دیا جائے اور دیہات کی لجنات نے اپنے اپنے اجلاسوں میں اسے بار بار سنایا۔59 لائبیریا کے صدر مملکت اور گیمبیا کے گورنر جنرل کی احمد یہ مشن لندن میں آمد وسط ۱۹۶۷ء احمد یہ مشن لندن کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ دو افریقن سربراہان مملکت کا ورود مسعود ہوا۔۲۵ جون ۱۹۶۷ء کو صدر مملکت لائبیریا مسٹر ٹب مین (TUBMAN) احمد یہ مشن لندن تشریف لائے۔بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن نے آپ کے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا۔جس میں صدر موصوف کے علاوہ برطانیہ میں لائبیریا کے سفیر اور لائبیریا کے متعدد سر بر آوردہ حضرات نے شرکت کی۔صدر موصوف ان دنوں برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔امام صاحب نے اپنی استقبالیہ تقریر میں صدر موصوف کی ان مساعی اور خدمات کو سراہا جو وہ اپنے ملک کو شاہراہ ترقی پر گامزن کرنے کے سلسلہ میں بجالا رہے ہیں۔اس موقع پر امام صاحب نے صد ر موصوف کو قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کا ایک نسخہ بھی تحفہ کے طور پر پیش کیا۔جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔صدر موصوف نے اپنی جوابی تقریر میں جماعت احمدیہ کی مساعی کی تعریف کی جو وہ تبلیغ اسلام کے ضمن میں دنیا کے دوسرے ممالک اور خو دلائبیریا میں کر رہی ہے۔صدر موصوف نے مسجد فضل لندن کو دیکھا۔نیز مشن ہاؤس کا بھی معاینہ کیا۔لائبیریا کی ٹیلیویژن سروس نے اس تاریخی تقریب کو ریکارڈ کیا۔60