تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 765 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 765

تاریخ احمدیت۔جلد 24 743 سال 1968ء رہے۔بہت دعا گو مخلص اور فدائی بزرگ تھے۔اپنے دوفرزندوں مولوی شیخ مبارک احمد صاحب ( سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ اور شیخ نور احمد صاحب مجاہد بلا دعر بیہ کو دینی تعلیم دلوانے کے بعد خدمت دین کے لئے وقف کیا۔20 ۱۹۲۳ء میں علاقہ ملکانہ میں آریہ سماج کی طرف سے شدھی کی خطرناک تحریک شروع ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس شدھی اور ارتداد کو روکنے کے لئے جماعت کے سامنے ایک سکیم پیش کی۔اس سلسلہ میں ایک وفد قادیان سے زیر قیادت حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب روانہ ہوا۔اس میں آپ بھی شامل تھے۔آپ نے چار سال علاقہ ملکانہ میں قیام کیا۔پندرہ ایام کے بعد آپ کو فتح پور سیکری کے قریب ایک گاؤں سکرا را نامی میں بھجوایا گیا۔کیونکہ وہاں آریہ سماج نے شدھی کی مہم چلانے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔چنانچہ آپ اس گاؤں میں تشریف لے گئے۔وہاں ایک مسجد تھی جو بالکل بند تھی۔آپ نے مسجد کی دیوار پر کھڑے ہو کر پُر شوکت آواز سے اذان دے دی۔آپ کی اذان پر سارے گاؤں میں کھلبلی سی مچ گئی۔وہ مسلمان جو اضطراری حالات میں مرتد کر لئے گئے تھے اور ہندو سب اکھٹے ہو گئے چند منٹوں میں مسجد کے ارد گر د سینکڑوں آدمیوں کا اجتماع ہو گیا۔مسلمانوں کے چہروں پر اطمینان کے آثار تھے۔آپ نے کہا کہ مسجد کی چابیاں لاؤ۔آپ نے مسجد کے دروازوں کو کھولا اور درخت کی ٹہنیوں کے جھاؤ بنا کر مسجد کے اندر اور باہر صفائی کرنی شروع کر دی اور نماز پڑھائی۔نماز کے بعد آپ نے اسلام کی خصوصیات اور صداقت اسلام کے دلائل پر مؤثر لیکچر دیا۔مسلمان بچوں کو آپ نے کلمہ سکھایا۔گاؤں کے نمبردار مچھمن داس نے خود ایک بڑے تھال میں پر تکلف کھانا لا کر پیش کیا اور کہا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔آپ کے آرام کے لئے گھر میں پلنگ وغیرہ رکھ دیا گیا ہے۔آپ نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم کو ہمارے مرشد نے ہدایت کی ہوئی ہے کہ مفت کھانا نہ کھائیں۔اگر آپ اس کی قیمت مجھ سے لے لیں تو میں کھا سکتا ہوں۔وہ قیمت نہ لیتا تھا اور آپ کھانا نہ کھاتے تھے۔آخر آپ نے اس کھانے کی قیمت بڑی حکمت عملی سے تحفہ کے رنگ میں ادا کر دی۔آپ نے کہا کہ میں مسجد میں ہی آرام کروں گا اور یہاں ہی میری رہائش ہوگی۔آپ پانچ وقت اذان دیا کرتے۔وہاں اکیلے تھے مگر حق و صداقت سے سرشار تھے۔آپ نے اس گاؤں کے باہر درختوں کے سایہ کے نیچے لیکچر دینے شروع کر دئے۔بڑے جوش اور جذ بہ سے اسلام کی خصوصیات اور صداقت کو بیان کرتے۔مسلمان بچوں اور بڑوں کو کہتے کہ وہ قرآن پڑھیں۔آپ نے کئی بچوں اور