تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 762 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 762

تاریخ احمدیت۔جلد 24 سیٹھ محمد یوسف صاحب بانی وفات: ۲۲/اکتوبر ۱۹۶۸ء 740 سال 1968ء محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب بانی چنیوٹ کے مشہور شیخ تاجر خاندان کے ایک فرد تھے۔کلکتہ میں ان کا کاروبار تھا۔آپ اپنے بیٹے محمود احمد بانی کی شادی کے سلسلہ میں کلکتہ سے چنیوٹ آئے ہوئے تھے کہ حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے مورخہ ۱/۲۲ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو وفات پاگئے۔سیٹھ صاحب کا جنازہ ربوہ لایا گیا اور۲۳/اکتوبر بعد نماز عصر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو عام قبرستان میں دفن کیا گیا۔سیٹھ صاحب موصوف بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔آپ ذیا بیطس کے مریض تھے۔تاہم بڑی ہمت کے ساتھ اپنے کاروبار میں مصروف رہے۔آپ سلسلہ کی مالی تحریکات میں بھی نمایاں حصہ لیتے تھے۔حضرت شیخ محمد دین صاحب مختار عام صدرانجمن احمدیه 117 وفات: ۲۱/۲۰ نومبر ۱۹۶۸ء حضرت شیخ صاحب سلسلہ احمدیہ کے ان ممتاز خدام میں سے ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تحریری بیعت کرنے کی سعادت میسر آئی۔آپ کے فرزند اکبر جناب شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ کے قلم سے حضرت شیخ محمد دین صاحب کے ہجرت قادیان تک کے حالات الفضل کی تین قسطوں میں شائع شدہ ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ والد صاحب کی زندگی کے حالات قابل تذکرہ ہیں اپنی ساری برادری میں احمدیت قبول کرنے اور پھر قادیان ہجرت کر آنے میں فرد واحد تھے۔آپ کی پیدائش ضلع ملتان کے معروف قصبہ تلمبہ کے نواح میں ۱۸۹۱ء میں ہوئی۔اس قصبہ میں والد صاحب نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔مدل آپ نے سرائے سدھو تحصیل کبیر وال ضلع ملتان میں جا کر پاس کیا۔یہ ۱۹۰۵ء کی بات ہے آپ کو تعلیم کا شوق تھا۔لائل پور میں ۱۹۰۶ء میں پٹوار کا امتحان بہت امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔تعلیم سے فراغت پر آپ بطور نائب مدرس تحصیل ملتان کے ایک مقام مٹرل میں ملازم ہو گئے۔کچھ عرصہ گذرنے پر شجاع آباد میں محکمہ نہر میں بطور پٹواری ملازم ہو گئے۔حسنِ اتفاق سے ان دنوں شجاع آباد میں محکمہ نہر میں حضرت منشی عمر دین صاحب آف کوٹلہ افغاناں ضلع گورداسپور