تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 763 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 763

تاریخ احمدیت۔جلد 24 741 سال 1968ء بھی ملازم تھے۔حضرت منشی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں تھے اور نیک سیرت صحابی تھے۔والد صاحب کو حضرت منشی صاحب نے اپنے مکان پر اپنے ساتھ ٹھہرایا۔محکمہ میں حضرت منشی عمر دین صاحب نیک شہرت رکھتے تھے۔احمدیت کے رنگ نے انہیں ایک خاص انسان بنا دیا تھا۔نمازوں کی پابندی ، قرآن کریم کی تلاوت ، تہجد سے شغف ، آپ کا ابتدائی جوانی کے دنوں سے ہی تھا۔اس نیک صحبت نے آپ پر بہت نیک اثر ڈالا۔حضرت منشی صاحب کے پاس قادیان سے سلسلہ کے اخبارات اور کتب آتیں والد صاحب بھی ان کا مطالعہ کرنے لگے۔نیک صحبت اور خاموش تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔پہلی مرتبہ والد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کی بابرکت ذات کے حالات اور دعویٰ سے علم حضرت منشی صاحب مرحوم سے ہوا۔انہی دنوں تازہ وحی کے زیر عنوان سلسلہ کے اخبار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تازہ الہام "تزلزل در ایوان کسری فتاد (اخبار بدر ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه ۲) شائع ہوا۔یہ ۱۵ جنوری ۱۹۰۷ء کی بات ہے۔کچھ عرصہ بعد یہ الہام پورا ہونے کے کوائف اخبار میں شائع ہوئے۔اور باتوں کے علاوہ اس نشان کے پورا ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور حقانیت آپ کے دل میں گھر کر گئی اور خدا کے مسیح کے دامن سے وابستہ ہونے کیلئے آپ کی روح میں ایک خاص گرمی پیدا ہوئی۔چنانچہ فروری ۱۹۰۷ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ کر قبولیت بیعت اور دعا کی درخواست کی۔حضور نے از راہ شفقت بیعت قبول فرمائی اور دعا سے نوازا۔اخبار بدر ۴ ۱ مارچ ۱۹۰۷ء کے پرچہ میں ”سلسلہ حقہ کے نئے ممبر آپ کا نام شائع ہوا ( صفحہ۱۱)۔شجاع آباد میں آپ تقریباً سات برس تک رہے۔یہاں حضرت منشی عمر دین صاحب کے علاوہ دو ایک اور احمدی دوست بھی محکمہ نہر میں آشامل ہوئے جن میں ایک حضرت منشی سر بلند خان صاحب بھی تھے۔ان احمدیوں کا ان دنوں آپس میں مل جل کر رہنا، نیکی کے تذکرے، دعاؤں کا شغف، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و کلمات کا ذکر خصوصی مشغلہ تھا۔جس سے روحوں کی صفائی اور تزکیۂ نفس کے مراحل طے ہوتے تھے۔شجاع آباد سے والد صاحب کی تبدیلی چاھاں میراں چڑھر رانہ واھن میں ہوئی۔اس علاقہ میں دو سال رہنے کے بعد آپ کی تبدیلی خاص ملتان شہر میں ہوگئی ملتان میں اس وقت ایک مختصر جماعت تھی۔میاں عبدالرحمن صاحب و میاں محمد عبد اللہ صاحب رنگریز دو احمدی بھائی تھے والد صاحب اپنے سرکاری فرائض کے بعد اکثر وقت ان احمدی بھائیوں کے ساتھ گزارتے۔انفرادی و اجتماعی رنگ