تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 760
تاریخ احمدیت۔جلد 24 738 سال 1968ء ان ظالموں نے ان مہمانوں کو بھی مارا پیٹا اور آپ کو بھی سخت اذیت پہنچائی لیکن اسی دوران ایک کٹر مخالف جو مخالفت میں پیش پیش تھا گھر کے سامنے ہی ایک گڑھے میں جا گرا۔ان لوگوں نے سمجھا یہ بھی کوئی احمدی ہے جو اچھی طرح قابو آ گیا ہے۔سب نے اس کو بری طرح مارنا شروع کر دیا اور وہ چلا تا ہی رہ گیا کہ میں تو فلاں ہوں لیکن جب انہوں نے لالٹین کی روشنی میں اپنے ساتھی کو نیم مردہ حالت میں دیکھا تو کف افسوس ملتے رہ گئے اور سخت شرمندہ ہوئے۔مولوی صاحب کو ان کی زندگی کے آخری دو مہینوں میں نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے مشرقی پاکستان کی احمدی جماعتوں میں رشتہ و ناطہ جیسے اہم کام پر لگایا گیا۔اس نہایت اہم ذمہ داری کی بجا آوری کے لئے سر دھڑ کی گویا بازی لگا دی اور عہد کیا کہ اس معاملہ کو سلجھانے کے لئے مجھے میرے خون کا آخری قطرہ بھی قربان کرنا پڑے تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے جو کچھ کہا اسے عملی طور پر پورا کر دکھایا اور وہ رشتہ و ناطہ کی کوششوں کے دوران اچانک بیمار ہو گئے اور ڈھا کہ میڈیکل کالج ہسپتال میں صرف دو روز زیر علاج رہنے کے بعد اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ شیخ عبدالحمید صاحب نے نعش کو بذریعہ ہوائی جہاز ربوہ پہنچانے کے اخراجات کا بار اٹھایا۔اور چوہدری شریف احمد صاحب ڈھلوں ان کی نعش کور بوہ لائے اور اگر چہ حصہ جائیداد کے تعلق میں ان کے ذمے ایک خاصی رقم بقایا تھی حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے از راہ شفقت اس مخلص خادم سلسلہ اور مجاہد کا سارا بقایا خود ادا کر کے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔اور مرحوم کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ مربیان میں دفن کیا گیا۔111 مولوی سید صمام الدین صاحب سونگھڑوی وفات: ۵/اکتوبر ۱۹۶۸ء آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی مولوی سیدا کرام الدین صاحب کے منجھلے بیٹے تھے۔بہت دیندار اور متوزع تھے۔آپ ایک عرصہ تک صد را انجمن حد یہ کی ملازمت میں رہے اور کر ڈاچی ، پنکال، کیندرا پاڑا، بھدرک، رانچی، بسنہ وغیرہ کے مقامات پر مبلغ و معلم کی حیثیت سے خدمات بجا لاتے رہے۔112