تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 759 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 759

تاریخ احمدیت۔جلد 24 مولوی ابوالفضل محمود صاحب وفات: ۲۹ ستمبر ۱۹۶۸ء 737 سال 1968ء (اصل وطن پر یا یو۔پی بھارت تھا)۔دینی تعلیم دتی اور دیو بند میں حاصل کی۔آپ نے عمدہ واعلی ، دیدہ زیب طباعت و کتابت کے ساتھ سلسلہ کا بہت سالٹریچر بکثرت شائع کیا۔خصوصاً در مشین، کشتی نوح اور الوصیت تو کئی مرتبہ چھپوا کر برائے نام قیمت پر ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کی۔آپ نے یہ کام عرصہ تک انتھک محنت ، جوش اور بڑے انہماک سے کیا۔لکھنو ، دہلی ، امرتسر ، لاہور، کراچی، مدراس، بنگلور، بمبئی ، کلکتہ اور حیدر آباد وغیرہ شہروں میں اکثر گھومتے رہے اور بڑے بڑے معزز افراد کو ملتے اور انہیں پیغام حق پہنچاتے تھے۔جارج پنجم کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر آپ نے Teaching" "of Islam اور چند اور کتب انہیں تحفہ بھجوائیں جس کے جواب میں انہیں شکریہ کا خط بھی موصول ہوا۔ایک دفعہ آپ ریاست میسور کے وزیر اعظم سر مرزا اسماعیل کے ہاں گئے اور پندرہ بیس دن ان کے پاس رہے اور ان کو پیغام حق پہنچایا اور کئی ایک کتب بھی دیں۔مولوی محمد علی اکبر صاحب بنگالی معلم اصلاح وارشاد وفات ۲ اکتوبر ۱۹۶۸ء 110 آپ مشرقی پاکستان کی سرزمین میں فجر احمدیت کے ایک شیریں پھل تھے۔آپ نے صرف بارہ سال کی عمر میں برما میں حضرت مصلح موعود کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ کو قبول احمدیت کے بعد اپنے رشتہ داروں اور گرد و پیش کے لوگوں سے شدید مخالفت سے دو چار ہونا پڑا یہاں تک کہ آپ پر چاقو سے قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا مگر آپ کے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی۔برما سے آپ کلکتہ آگئے اور ملازمت اختیار کر کے پورے زور وشور سے احمدیت کا پیغام پہنچانا شروع کیا جلد ہی بعض تعلیم یافتہ افراد سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔جس پر مخالفین نے آپ کو نہایت بیدردی سے مارا پیٹا اور آپ کو مردہ سمجھ کر بھاگ گئے۔آپ کچھ دن ہسپتال میں رہے اور صحت یاب ہو کر پہلے سے بڑھ کر جوش و خروش کے ساتھ تبلیغ میں مشغول ہو گئے اور اپنے آبائی گاؤں احمد پور ضلع نواکھالی میں رہنے لگے۔یہاں بھی مخالفین نے عوام کو آپ کے خلاف سخت مشتعل کر دیا اور ایک روز سب مل کر رات کی تاریکی میں آپ کے گھر پر حملہ آور ہو گئے۔اس وقت کچھ احمدی معززمہمان بھی موجود تھے۔