تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 758
تاریخ احمدیت۔جلد 24 736 سال 1968ء بعد کچھ عرصہ ہمارے ساتھ حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس بھی تعلیم پاتے رہے۔ان دنوں مبلغین کلاس کے لئے ہمہ وقت اور جملہ مضامین کے حضرت حافظ صاحب ہی استاد ہوتے تھے۔آپ کی طرز تعلیم نہایت دلر با اور دلنشین تھی اور طلبہ کو نہایت بے تکلفی سے آپ پڑھاتے تھے۔مولانا محمد عبداللہ صاحب مالا باری نے بھی اس آخری کلاس سے کافی استفادہ فرمایا۔ان دنوں مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ بھی اپنی نظیر آپ تھے۔حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب، حضرت قاضی امیر حسین صاحب، حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب ان میں نمایاں تر تھے۔ان جملہ اساتذہ کی تدریسی کاوشوں سے اخویم مولا نا محمد عبد اللہ صاحب مالا باری نے بہت فائدہ اٹھایا تھا اور وہ علوم کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنے وطن کو واپس ہوئے۔عالم تو دنیا میں بہت ہیں مگر مرحوم مولا نا ایک بلند پایہ روحانی عالم تھے۔تقویٰ سے زندگی بسر کرنے والے عالم تھے۔تعلیمی میدان میں مسابقت اور مقابلہ بھی ہوتا تھا۔کھیل کے میدان میں بھی مقابلے ہوتے تھے۔مولوی صاحب موصوف ہاکی کے اچھے کھلاڑی تھے مگر اس سارے عرصہ میں ہر پہلو سے موصوف ایک تقوی شعار احمدی عالم تھا۔دین سے ان کو شغف تھا اور تحقیق اور ریسرچ ان کی غذا تھی۔انہوں نے تحصیل علم کے بعد پوری زندگی خدمت دین میں صرف کی ہے۔مالا بار میں عربی زبان کا خاصہ رواج ہے اس لئے مخالفین کے مقابلہ کے لئے مرحوم کو بھی خاص تیاری کرنی پڑتی تھی۔گھنٹوں تقریر کر سکتے تھے۔دشمنانِ حق کے مقابلہ میں پورے جوش اور کامل قوت ایمانی کے ساتھ ڈٹ جاتے تھے۔تحریر کا بھی خوب ملکہ تھا۔انہیں اس وقت تک چین نہ پڑتا تھا جب تک دشمن کے تحریری حملہ کا مسکت جواب تحریر سے نہ دے لیتے تھے۔انہیں نادر اور علمی کتابوں کے حصول کا بہت شوق تھا۔مالی تنگی کے باوجود اس شوق کو پورا کرتے تھے۔ملیالم میں ایک رسالہ ایڈٹ کرتے تھے۔پورا تبلیغی کام کرتے تھے۔اپنے علاقہ کی تمام جماعتوں کی تربیت کا پورا اہتمام فرماتے تھے۔مالا بار میں اردو کم سمجھی جاتی ہے اس لئے گویا مولا نا ہی اس علاقہ کے احمدیوں کے لئے مشعل راہ اور واسطہ تھے۔ایک عظیم اور قابل تقلید خوبی مولانا مرحوم میں یہ تھی کہ وہ بالکل بے نفس تھے۔انہیں ایسے لوگوں سے طبعی طور پر نفرت ہوتی تھی جن میں ریاء یا تکلف نظر آتا ہو۔ان کی زندگی بالکل درویشی کی زندگی تھی۔وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں دیکھ کر خدا یاد آ جاتا ہے۔ان کے اپنے علاقہ کے لوگوں پر ان کا خاص روحانی اثر تھا۔109