تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 757 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 757

تاریخ احمدیت۔جلد 24 735 سال 1968ء سیلون میں بھی بطور مبلغ آپ خدمات سرانجام دیتے رہے۔پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں مولوی فاضل کی ڈگری کے علاوہ احمدی مرکز قادیان (پنجاب) سے مبلغین کا کورس مکمل کرنے کے بعد اپنی زندگی وقف کر کے وطن واپس آئے۔اور دینی خدمات میں منہمک ہو گئے۔مالایالم کے علاوہ عربی، انگریزی، اردو، فارسی اور تامل زبانوں میں بھی آپ کو اچھا ملکہ حاصل تھا۔آپ کا شمار جنوبی ہندوستان کے مشہور علماء میں ہوتا تھا۔۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۵ء تک کیرالہ، مدراس اور سیلون میں منعقدہ مناظرات میں جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ نمائندہ تھے۔ہندوستان وسیلون میں متعدد ہونے والے دیگر مذاہب کے جلسوں میں بھی آپ اکثر اوقات مدعو ہوتے تھے۔مدینہ ہسپتال کے سرجن اور اب لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر محمدعبداللہ محترم مولوی صاحب کے داماد اور پینگاڈی کے ایڈووکیٹ مکرم بی عبد الرحیم صاحب آپ کے برادر اصغر ہیں۔108- 66 مولانا ابوالعطاء صاحب نے مجاہد احمدیت حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب مالا باری کا ذکر خیر کے عنوان سے تحریر کرتے ہوئے فرمایا کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرا کہ اتنے دور دراز علاقے کا ایک بچہ تعلیم دین سیکھنے کے لئے قادیان میں آیا تھا۔اسے اپنے وطن پینگا ڈی مالا بار میں ”بی عبداللہ کہتے تھے قادیان میں وہ عبداللہ مالا باری کے نام سے مشہور ہوا۔نہایت ہونہار اور محنتی نو جوان تھا۔قادیان کے مقدس علمی ماحول نے اس نوجوان کو خاص رنگ سے رنگین کر دیا۔مسافت کے دور ہونے کے باعث مدرسہ کی ہر سال کی تعطیلات میں گھر جانے کا موقعہ نہ ہوتا تھا کئی سال کے بعد اپنے وطن جاتے تھے ورنہ تعطیلات بھی مطالعہ اور تحصیل معلومات میں ہی قادیان میں بسر ہوتی تھیں۔انہیں مطالعہ کا غیر معمولی شوق تھا۔ہم نے ۱۹۲۴ء میں مولوی فاضل کا امتحان دیا۔ہم سات طالب علم تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ساتوں ہی کامیاب ہو گئے اور میرے نمبر یو نیورسٹی میں کامیاب ہونے والوں میں سے سب سے زیادہ تھے۔مولوی صاحب جماعت میں نہایت ہوشیار اور ذہین طالب علم تھے۔مولوی صاحب موصوف کی طبیعت ابتداء سے ہی ایسی سلجھی ہوئی تھی کہ کسی سے لڑائی جھگڑا کی کبھی نوبت نہ آتی تھی بلکہ آپ بعض طلبہ کے باہمی تنازعات کا نہایت خوش اسلوبی سے سمجھوتہ کر دیا کرتے تھے۔طبیعت نہایت محققانہ تھی بات کی تہ تک جاتے تھے اور سطحی وسرسری معلومات پر قانع نہ ہوتے تھے۔مولوی فاضل کے