تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 750
تاریخ احمدیت۔جلد 24 728 سال 1968ء میاں محمد ادریس صاحب چنیوٹی آف کلکتہ وفات: ۳ /اگست ۱۹۶۸ء مرحوم ماه فروری ۱۹۶۳ء میں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔باوجود اندرونی و بیرونی مخالفت کے ایمان میں استقامت و استقلال کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے اخلاص میں ترقی کرتے چلے گئے۔وہ احمدیت میں اگر چہ پیچھے آئے مگر اپنے اخلاص میں بہتوں سے آگے نکل گئے۔سلسلہ کی نہر تحریک میں لبیک کہا اور مالی قربانی کی۔اپنی اولاد کو بھی سلسلہ کی تحریکات اور مساعی میں شامل کرنے کی سعی فرماتے تھے۔سلسلہ کے اخبارات و رسائل کو اپنے نام جاری کروایا۔خود پڑھتے اور افراد خاندان کو بھی پڑھوانے کی کوشش فرماتے۔بہت ہی سنجیدہ مزاج، با اخلاق اور سکبھی ہوئی طبیعت رکھنے والے تھے۔نظام سلسلہ کے پابند تھے۔حضرت خلیفہ اسیح اور سلسلہ کے بزرگان اور خادموں سے محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ہر موقعہ پر انہوں نے خندہ پیشانی سے سلسلہ کی مختلف تحریکات میں حصہ لیا اور سلسلہ کی خدمت و اشاعت کو اپنے لئے موجب سعادت و برکت سمجھتے تھے۔اسی طرح غریبوں اور مسکینوں کی امداد کر کے دل میں بشاشت و فرحت محسوس کرتے۔مولوی کمال الدین صاحب امینی 102 وفات: ۱۲ اگست ۱۹۶۸ء بمقام ہڈرزفیلڈ انگلستان مولوی شریف احمد صاحب امینی مبلغ سلسلہ احمدیہ قادیان کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی تھے۔اصل وطن بنگہ ضلع جالندھر تھا۔ہجرت کے بعد اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے اور کچھ عرصہ بعد انگلستان کے شہر ہڈرز فیلڈ میں بود و باش اختیار کر لی۔آپ جماعت ہڈرزفیلڈ کے اولین پریذیڈنٹ تھے۔اس مخلص جماعت کو معیاری اور مثالی جماعت بنانے کے لئے آپ نے زندگی کے آخری سانس تک دیوانہ وار جد و جہد فرمائی۔جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن نے آپ کو مردِ مجاہد قرار دیتے ہوئے ایک مفصل نوٹ میں لکھا: مرحوم کی کس کس خوبی کا تذکرہ کیا جائے۔ان کا سارا وجود ہی برکت سے پُر تھا۔چہرہ ایسا روحانی کہ دیکھنے سے ہی روحانی سرور آئے۔باوجود کم علم ہونے کے روحانی اثر کی وجہ سے بڑے