تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 745 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 745

تاریخ احمدیت۔جلد 24 723 سال 1968ء تعالیٰ نے بہ احسن طریق پر پوری فرما دی۔آپ کے ۳/ احصہ کی وصیت قبول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کا شرف بخشا۔خاندان میں ایک دو بار آپس میں ناراضگی پیدا ہوئی تو آپ نے ہر بار ایک شفیق ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے فور اصلح کرائی اور بات کو بڑھنے سے روکا۔یہ دراصل آپ کے بلند کردار، بزرگی اور بے لوث محبت کا اثر تھا کہ آپ کی بات کو کوئی ٹال نہ سکتا تھا۔مجھ سے بھی تائی جان کا غیر معمولی شفقت کا سلوک تھا۔بنوں شہر میں وفات پانے کے بعد آپ کا جنازہ اپنے گاؤں سرائے نورنگ لایا گیا جہاں بنوں شہر سے، نورنگ سے اور قریبی گاؤں سے احمدی احباب نماز جنازہ کیلئے تشریف لائے۔اسی طرح غیر احمدی دوست بھی کثیر تعداد میں افسوس کیلئے تشریف لائے۔آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔9 جولائی ۱۹۶۸ء کو محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔چوہدری اللہ بخش صاحب پریذیڈنٹ جماعت کنڈ یوالی ضلع رحیم یارخان وفات: ۱۷ جولائی ۱۹۶۸ء سلسلہ سے والہانہ محبت تھی۔ان کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں متعدد افراد داخل احمدیت ہوئے۔خدمت خلق کے باعث غیر از جماعت دوستوں میں بھی مقبول تھے۔عبدالشکور صاحب پراچہ وفات: ۲۱ جولائی ۱۹۶۸ء مکرم عبد الشکور صاحب جو صوفی عبدالرحیم پراچہ صاحب کے فرزند تھے۔ایک حادثہ میں سلانگ سے کابل آتے ہوئے گلہ مراد کے مقام پر وفات پاگئے۔آپ کے والد محترم افغانستان میں تجارت کرتے تھے اور شاہی دربار میں باعزت رسائی رکھتے تھے۔۵ فروری ۱۹۲۵ء کو جب دو احمدیوں کو ظالمانہ طور پر شہید کیا گیا تو پتھر مارنے والوں میں صوفی صاحب بھی شامل تھے۔تاہم اس حادثہ کے بعد آپ کے قلب و نظر کی حالت بدل گئی اور حکومت افغانستان کا یہ ظالمانہ اور بزدلانہ فعل آپ کے قبول احمدیت کا باعث بن گیا اور آپ احمدی ہونے کے بعد بھیرہ آگئے۔عبدالشکور نے بی۔اے ٹی آئی کالج ربوہ سے کیا۔چند سال کے بعد افغانستان چلے گئے۔احمدیت ، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ربوہ کی بستی سے خاص انس تھا۔محترم صاحبزادہ مرزا۔96