تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 746
تاریخ احمدیت۔جلد 24 724 سال 1968ء منور احمد صاحب مع اہل و عیال کا بل گئے تو ان کے ہاں ہی ٹھہرے تھے۔جس کو وہ بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے کہ یہ نور ہمارے گھر آیا اور برکت سے نوازا۔مرحوم کے آخری خط میں یہ تاکید تھی کہ حضور کی خدمت میں میرا السلام علیکم پہنچانا اور دعا کے لئے عرض کرنا۔97۔چوہدری رحمت خاں صاحب سابق امام مسجد فضل لندن وفات: ۳۰/۲۹ جولائی ۱۹۶۸ء آپ حضرت چوہدری خوشی محمد صاحب ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادہ تھے اور موضع دھیر کے کلاں تحصیل گجرات میں پیدا ہوئے۔۱۹۲۲ء میں زمیندارہ ہائی سکول گجرات میں ملازمت اختیار کی اور ۱۹۵۴ء میں اسی سکول سے بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔چوہدری صاحب اپنے شاگردوں کو بڑی محبت اور شفقت سے پڑھاتے تھے۔اسی طرح شاگر د بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔سکول میں آپ کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا۔زمیندارہ ہائی سکول سے پنشن یاب ہونے کے بعد آپ موضع دھور یہ ضلع گجرات کے ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے لیکن ۱۹۶۰ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو تبلیغ دین کے لئے انگلستان جانے کا حکم صادر فرمایا تو ملازمت سے مستعفی ہو کر انگلستان تشریف لے گئے اور ۱۹۶۴ء تک نہایت اخلاص سے امام مسجد فضل کے فرائض انجام دیتے رہے اور بعد ازاں تا دمِ واپسیں احمد یہ ہوٹل لاہور میں سپر نٹنڈنٹ کے منصب پر فائز رہے۔جناب قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے ناظر تعلیم صدر انجمن احمد یہ پاکستان نے آپ کی وفات پر لکھا: ” مرحوم کو احمد یہ ہوٹل کے دور جدید میں پہلا سپرنٹنڈنٹ مقرر ہونے سے نئی خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا جس سے وہ احسن طور پر عہدہ برآ ہوئے۔اس تاریخی ادارہ کی از سر نو تنظیم اور اس سے متعلق نگرانی ، تربیت اور حسابات وغیرہ نہایت اہم فرائض تھے۔بیشتر طلباء(ساکنین ہوٹل یونیورسٹی کلاسز سے تعلق رکھتے ہیں۔ہوٹل کی پرانی شاندار روایات کو از سرِ نو قائم کرنا اور پاکیزہ اسلامی ماحول میں زندگی بسر کرنا وہ نصب العین ہے جو ہمیشہ ان کے مدنظر رہا۔ہوٹل کے لئے ایسی کوٹھی کا کرایہ پر دستیاب ہونا جہاں سے اولڈ اور نیو کیمپس کو جانے اور واپسی پر آسانی کی سواری میسر ہو، ایک نا قابل حل عقدہ رہا ہے۔بنا بریں مستقل ہوٹل کی عمارت کی جو موزوں جگہ پر ہو ضرورت شدت سے محسوس ہوتی رہی ہے اور اس کے پیش نظر ہوٹل کے لئے موزوں قطعہ اراضی کی تلاش میں محترم چوہدری صاحب نے مسلسل محنت سے حصہ لیا۔بالآخر ایک موزوں پلاٹ انتخاب میں