تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 744 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 744

تاریخ احمدیت۔جلد 24 722 سال 1968ء جائے نماز پر جب نماز ادا کرتیں تو سارا ماحول نورانی معلوم ہوتا تھا۔آپ کے چہرہ پر اتنا خشوع و خضوع نظر آتا کہ انسان کو یقین ہو جاتا کہ واقعی مرحومہ خدا تعالیٰ کے حضور کھڑی ہیں۔آپ کی پاک زبان پہ ہمیشہ تسبیح وتحمید کا ور در بہتا۔سخاوت آپ کو خاندانی ورثہ میں ملی تھی۔شفقت و بزرگی کا یہ عالم تھا کہ ہمارے خاندان میں نہ آپ کسی سے ناراض ہوئیں اور نہ کبھی کوئی آپ سے ناراض ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خاندان کا ہر فرد یہ محسوس کرتا تھا کہ گویاوہ میری ماں ہے اور مجھ پر بہت مہربان ہے۔مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہیں۔۱۹۲۶ء میں ہمارے خاندان نے ہجرت کی اور سرائے نو رنگ ضلع بنوں میں آباد ہوا۔یہ اس تھکے ماندے بے سہارا خاندان کے لئے ایک اور آزمائش کا وقت تھا۔ناداری، بے کسی ہر طرف سے دشمن کے حملے تھے۔ہماری زمین کے قریب ہی دوسرے غیر احمدی رشتہ داروں کے گاؤں ہیں جو افغانستان میں ہماری جائیدادوں کے کچھ حصہ پر قابض ہو گئے ہیں۔ان میں ایک گاؤں مرحومہ کے بھائیوں کا ہے۔مرحومہ کے دس بھائی تھے۔بڑے متمول اور بارسوخ، احمدیت کے شدید مخالف تھے۔یہاں بھی انہوں نے مرحومہ کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی لیکن مرحومہ کا ایمان اس قدر مضبوط تھا کہ سب کو صاف الفاظ میں کہا کہ احمدیت کی خاطر میں تم سب بھائیوں کو چھوڑ سکتی ہوں چنانچہ ان کی مخالفت کے سبب ان سے تعلقات قطع کر لئے اور احمدیت کی تعلیم پر مضبوطی سے قائم رہیں۔آپ کو کچی خوا میں بھی آتی تھیں۔وفات سے تین چار ماہ قبل خاندان میں ایک رشتہ کے بارہ میں آپ سے دعا اور مشورہ کے لئے عرض کیا گیا۔آپ نے فرمایا میں ایک خواب کی بناء پر کہتی ہوں کہ ہرگز یہ رشتہ نہ کرو۔ہم سب بظاہر اچھے حالات پر نظر رکھتے ہوئے حیران ہوئے کہ تائی جان کیوں اتنے اصرار سے منع فرماتی ہیں۔ایک ہفتہ میں ہی مزید معلومات حاصل کرنے سے معلوم ہوا کہ اگر خدانخواستہ وہ رشتہ ہو جاتا تو خاندان کے لئے شر کا باعث ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، حضرت اماں جان، حضرت خلیفۃ المسیح الاول اور حضرت مصلح الموعود سے والہانہ محبت اور عقیدت تھی۔وفات سے دور وز قبل محترم والد صاحب کو جو مرحومہ کی عیادت کی غرض سے گئے تھے اپنے پاس بلا کر نہایت کمزوری کی حالت میں فرمایا دیکھنا! میں بہشتی مقبرہ سے محروم رہ نہ جاؤں۔والد صاحب بتاتے ہیں کہ اس دار فانی میں یہی ان کی آخری تمنا تھی۔اس کے بعد اور کوئی خواہش نہیں کی اور جان خداوند کریم کے حضور پیش کر دی۔الحمد للہ کہ مرحومہ کی یہ خواہش خدا