تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 737
تاریخ احمدیت۔جلد 24 715 سال 1968ء حضرت خواجہ عبد الواحد صاحب پہلوان گوجر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ولادت: ۱۸۸۴ء تحریری بیعت : ۱۸۹۶ء وفات: ۱۸ جون ۱۹۶۸ء آپ کے آباؤ اجداد ۱۸۵۷ء میں جموں کشمیر سے ہجرت کر کے گوجرہ ، ٹو بہ ٹیک سنگھ میں آباد ہوئے۔آپ کے والد خواجہ عمد و صاحب نے انہیں اور ان کے بھائی کو وصیت کی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہدی موعود سے متعلق کسوف و خسوف کی پیشگوئی پوری ہو تو اس وقت تم مہدی موعود کے دعویدار کی بیعت کر لینا اور میر اسلام عرض کر دینا۔۱۸۹۴ء میں جب یہ عظیم الشان نشان ظاہر ہوا تو خواجہ عبدالواحد صاحب نے ۱۸۹۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا مگر حضور علیہ السلام کی زندگی میں زیارت نہ کر سکے اور حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد قادیان جا کر حضرت خلیفہ امسیح الاول کی بیعت کی۔احمدیت سے قبل آپ اہل حدیث مسلک رکھتے تھے اور مخالفین میں خوب تبلیغ کرتے تھے۔گوجرہ میں آپ نے ہی جگہ لے کر مسجد تعمیر کرائی۔بازار میں جا کر جماعت کے جلسوں کی منادی کیا کرتے تھے اور مرکز سلسلہ سے علماء کرام مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم، محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس، مکرم گیانی عباداللہ صاحب، حضرت مولوی محمد حسین صاحب سبز پگڑی والے، مکرم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری کو تبلیغ کے لئے بلاتے تھے۔مناظرے بھی کروائے۔علماء سلسلہ کے قیام وطعام کا اپنے ہاں ہی انتظام کرتے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات پر خواب دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمود کی سواری کے لئے رستہ صاف کر رہے ہیں۔چنانچہ آپ نے خلافت ثانیہ کی بیعت کر لی۔ایک دفعہ عطاء اللہ شاہ بخاری کے جلسہ میں چلے گئے ان کے غلط حوالہ پر خواجہ صاحب نے شور مچا دیا اور جلسہ درہم برہم ہو گیا۔۱۹۵۳ء میں خواجہ صاحب ، ماسٹر محمد الدین صاحب اور چوہدری عبداللہ ساکن گوکھوال پر مخالفین نے مقدمہ قتل بنوا دیا۔موخر الذکر مقامی عدالت اور خواجہ عبدالواحد صاحب ہائیکورٹ سے بری ہو گئے۔شدید مخالفت کی وجہ سے قادیان چلے گئے اور دودھ دہی کا کاروبار شروع کر دیا۔تقسیم ملک کے بعد ۱۹۴۷ء میں پھر گوجرہ میں آباد ہو گئے اور اپنے ایک بیٹے خواجہ عبد الکریم صاحب کو حفاظت مرکز کے