تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 735
تاریخ احمدیت۔جلد 24 713 سال 1968ء ۳۶ - ۱۹۳۵ء میں آپ اور محمد دین صاحب سیکرٹری مال جماعت احمدیہ آنبہ تحریک جدید کے مکیریاں مرکز میں بغرض تبلیغ تشریف لے جاتے رہے۔محمد الدین صاحب رقمطراز ہیں :۔۱۹۳۵ء کا واقعہ ہے کہ موضع میت پور میں ہم نے نماز ظہر ادا کی اور دعا کی کہ اللہ کریم اس گاؤں میں بھی احمدیت کا بیج لگائے۔وہاں صرف ایک دوست عزیز الدین صاحب احمدی تھے۔اگلے سال ۱۹۳۶ء میں ہم وہاں گئے تو اللہ کریم نے اپنے فضل سے وہاں جماعت قائم کر دی۔رات کے وقت چوہدری حاکم علی صاحب کے مکان پر اذانیں دے کر نمازیں پڑھا کرتے تھے۔شاہ صاحب کسی دوست کی تکلیف دیکھ کر برداشت نہ کرتے تھے۔موضع سہونہ میں چوہدری فضل الدین صاحب احمدی کی برادری نے عین گندم کی کٹائی کے موقع پر مقدمہ دائر کر دیا۔ادھر گندم زیادہ پک کر خراب ہو رہی تھی۔علاقہ میں اردگرد تمام کٹائی ہو چکی تھی۔چوہدری فضل الدین صاحب کی گندم کھڑی خراب ہو رہی تھی۔رات کو شاہ صاحب نے مکیریاں کے ایک دوست چوہدری نور محمد صاحب سے گندم کاٹنے کیلئے درانتیاں طلب کیں۔صبح ہم آٹھ احمدی وہاں پہنچے۔چھ تو گندم کاٹنے لگے اور دو دوست (شیخ نورالدین صاحب اور بابو فقیر اللہ صاحب ) چونکہ بوڑھے اور کمزور تھے وہ پانی وغیرہ پلاتے رہے۔چھ ایکڑ گندم ہم نے دو یوم میں کاٹ کر ایک جگہ کھلیان لگا دیا۔شاہ صاحب نے بھی اپنے سر پر گندم اٹھا کر ہمارے ساتھ لگائی۔اس کارروائی کی رپورٹ مرکز میں خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں گئی تو حضور نے اپنے دست مبارک سے کام کر نیوالوں کوخوشنودی کا سرٹیفکیٹ عطا فرمایا۔84- ۱۹۴۷ء میں ہندوستان سے ہجرت کرنے والے احمدی مہاجرین کی آباد کاری میں نمایاں حصہ لیا۔۱۹۴۸ء میں آپ نے اپنے دونوں بیٹوں سید سعید احمد شاہ صاحب اور سید مجید احمد شاہ صاحب کو فرقان بٹالین میں بھیجا۔ایک دفعہ خطرہ پیدا ہوا تو حضرت شاہ صاحب فرمانے لگے ہم کیسے خوش قسمت ہوں گے اگر ہمارے دونوں لڑکے اس جنگ میں شہید ہو جائیں۔فسادات ۱۹۵۳ء میں آپ نے مومنانہ شجاعت کا نمونہ دکھایا۔ان دنوں ایک غیر مبائع دوست وار برٹن کے سٹیشن ماسٹر تھے جو بہت گھبرائے ہوئے تھے ، حضرت شاہ صاحب نے ان کو کافی حفاظت سے رکھا۔وفات کے روز آپ نے نماز تہجد میں معمول سے زیادہ سجدات کئے اس وقت آپ پر غیر معمولی گریہ وزاری اور رقت طاری تھی۔بار بار جناب الہی میں عرض کرتے رہے میرے مولا مجھ سے حساب نہ لینا اور بغیر حساب ہی بخش