تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 734
تاریخ احمدیت۔جلد 24 712 سال 1968ء نہایت فدائی احمدی تھے۔اور اسی وجہ سے آپ کی مخالفت ہوئی یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرمایا آپ پنجابی کے بہت اچھے شاعر تھے اور جگر اؤں ضلع لدھیانہ سے ہجرت کر کے آئے تھے۔مولویوں کا مطالبہ تھا کہ آپ تبلیغ سے باز آجائیں مگر آپ نے کہا میں اس کام سے ہرگز باز نہیں رہ سکتا۔تبلیغ احمدیت ان کی روح کی غذا تھی۔آپ حکمت کا کام کرتے تھے اور ساتھ اشتہار لکھ کر لگاتے تھے۔ایک دفعہ اپنے لڑکے حبیب اللہ کو کہنے لگے کہ مولوی مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں کہ اگر تم تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں مار دیں گے۔کہنے لگے میں تو باز نہیں آسکتا۔جو ہوگا دیکھیں گے۔اللہ تعالیٰ بہتر کرے گا۔چنانچہ مئی ۱۹۶۸ء میں جام شہادت نوش فرمایا۔آپ نے اپنی یادگار میں ایک بیٹا حبیب اللہ اور پانچ لڑکیاں یادگار چھوڑے۔سیدلال شاہ صاحب امیر جماعت احمد یه آن به وکرم پورہ ضلع شیخو پوره وفات: ۳ جون ۱۹۶۸ء آپ کا اصل وطن موضع چکریاں نزد سعد اللہ پور ضلع گجرات تھا۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے حقیقی چا زاد بھائی اور سعد اللہ پور سکول کے اول مدرس حضرت مولوی غلام علی صاحب کے ذریعہ آپ کو احمدیت کا نور پہنچا اور آپ نے خلافت ثانیہ کے اوائل میں قبولِ احمدیت کی سعادت پائی جس پر آپ کا سارا خاندان شدید مخالف اور معاند ہو گیا حتی کہ آپ کو قتل کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے مگر آپ انتہائی مخالف حالات کے باوجود کو استقلال بن کر احمدیت پر ڈٹے رہے اور اس کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔حضرت مصلح موعود کے مشورہ سے آپ نے مدرسی اختیار کی اور ابتدا موضع مانگٹ اونچے ضلع گوجرانوالہ اور ازاں بعد موضع میراں پور ضلع شیخو پورہ میں تعینات ہوئے۔کچھ عرصہ بعد آپ کی تبدیلی میراں پور سے پانچ میل پر واقع گاؤں آنبہ میں ہوئی اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔شاہ صاحب کا سکول سالہا سال تک ضلع بھر میں اول آتا رہا۔افسرانِ تعلیم ہمیشہ آپ سے خوش اور مداح تھے۔سکول کا درسی سبق ہو یا کوئی عام نصیحت یا تربیتی مسئلہ آپ تمثیلات کے ذریعہ اس پیارے انداز میں سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں گھر کر جا تا تھا۔ملازمت کے بعد منڈی واربرٹن میں رہائش پذیر ہوئے اور تجارت کا مشغل اختیار کیا لیکن وقت زیادہ تر جماعتی کاموں میں ہی صرف ہوتا تھا۔جماعت آنبہ کے چالیس سال تک امیر رہے۔علاوہ ازیں شیخوپورہ کے نائب امیر اور ناظم انصار اللہ ضلع شیخو پورہ کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔