تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 57 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 57

تاریخ احمدیت۔جلد 24 57 سال 1967ء اس تقریب کے بعد LEEDS یو نیورسٹی کے پاکستانی طلباء (جوسب انجینئر یا ڈاکٹر ہیں ) نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو اپنے ہاں کھانے پر بلایا جس میں آپ اور آپ کے والد گرامی بھی شریک ہوئے جو اس سے قبل میکسویل میڈل کی تقریب میں شامل ہو چکے تھے۔مشرق وسطی کے مسلمانوں کے لئے دعا کی خصوصی تحریک 52 ۵ جون ۱۹۶۷ء کو اسرائیل نے اچانک متحدہ عرب جمہوریہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں پر فضائی حملہ کردیا۔جس کے بعد عربوں اور اسرائیل میں گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اگلے روز ۶ جون کو مشرق وسطی کے مسلمانوں کے لئے دعا کی خصوصی تحریک کی۔چنانچہ فرمایا:۔اللہ تعالی الحی القیوم ہے اور اس نے انسانی زندگی کے لئے بے شمار سامان پیدا کئے ہیں اس لئے جان بوجھ کر خود کو ہلاکت میں ڈالنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور اس کی نگاہ میں ناجائز ہے۔اس وقت مشرق وسطی کے مسلمان خود حفاظتی میں لڑائی لڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔جان و مال کی حفاظت کے لئے اسلام میں جنگ کرنا ضروری ہے۔اگر چہ یہ خالص دینی جنگ تو نہیں۔مگر خود حفاظتی کی جنگ بھی اسلام میں جہاد ہی ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم بہت دعا کریں اور بہت دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرمائے۔مجھے تو اس فکر میں رات کو نیند بھی ٹھیک طرح نہیں آئی۔اور قریباً ساری رات ہی دعا میں گزری۔بے شک اللہ تعالیٰ نے یورپین اقوام کو بہت طاقت دی ہوئی ہے۔لیکن اسے یہ طاقت بھی ہے کہ وہ ان کو اس طاقت کے غلط استعمال سے روک دے۔اس لئے ہمیں چاہیئے کہ بہت بہت دعا سے کام لیں۔عرب وار ریلیف فنڈ میں امداد کیلئے پر زور تحریک چند روز بعد صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ عرب بھائیوں کی امداد کے لئے عرب وار ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا جس پر حضور نے دنیا بھر کے احمدیوں کے نام یہ نہایت ضروری پیغام دیا کہ اس امدادی فنڈ میں دل کھول کر عطیات ارسال کریں۔