تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 56 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 56

تاریخ احمدیت۔جلد 24 56 سال 1967ء 50 خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ اور طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی ، اسے دوبارہ قائم کرے۔پس جہاں آپ خود اپنے اندر خداشناسی اور پاکیزگی کے اس معیار کو بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں وہاں اپنے نیک نمونہ سے یہ حقیقی معرفت اور زندہ خدا پر زندہ یقین اور یہ تقویٰ وطہارت اپنے عزیزوں ، دوستوں اور ہمسایوں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اس طرح کہ خدا سے روٹھی ہوئی یہ مخلوق پھر اس کے آستانہ پر جھک جائے اور خدا تعالیٰ کی سچی معرفت اسے بھی حاصل ہو جائے۔اس کے لئے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق ضروری ہے کہ:۔” ہمیشہ اپنے قول اور فعل کو درست اور مطابق رکھو جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنھم نے اپنی زندگیوں میں کر کے دکھایا۔ایسا ہی تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے صدق اور وفا کے نمونے دکھاؤ۔( الحام ) اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے آمین۔(خاکسار مرزا ناصر احمد ) خلیفة اصبح الثالث یکم اپریل ۱۹۶۷ء ڈاکٹر عبدالسلام کی میکسویل میڈل اور نقد انعام سے عزت افزائی ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے محترم والد گرامی حضرت چوہدری محمد حسین صاحب نے لندن۔۲۹ مئی ۱۹۶۷ء کو اپنے داماد ملک بشیر احمد صاحب اور صاحبزادی محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ کو ایک مکتوب سپرد قلم فرمایا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو ۲۴ مئی کو HARROGATE CITY( جولنڈن سے بجانب شمال ۲۰۸ میل کے فاصلہ پر ہے) فزیکل اور فزکس سوسائٹی لنڈن نے میکسویل میڈل اور ۱۰۵ پونڈ نقد انعام دیئے تقسیم انعامات MAJESTIC HOTEL کے وسیع ہال میں تھا۔