تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 730
تاریخ احمدیت۔جلد 24 708 سال 1968ء اپنے ظرف کے مطابق حضرت حافظ روشن علی صاحب کے قدم پر چلے ہیں۔اور انہوں نے کافی حد تک اس رنگ کو اپنا لیا تھا جس سے طبیعت میں خوشی ہوتی تھی۔ان کی قرآت قرآن پاک کو سننے کے لئے خاص اہتمام سے دوست حاضر ہوتے تھے۔حافظ صاحب مرحوم عالم باعمل تھے۔بہت دعا گو تھے۔سلسلہ کے لئے بہت غیرت مند تھے۔کلمہ حق کہنے میں بڑی جرات رکھتے تھے۔طبیعت میں بڑی ظرافت تھی۔موقعہ کے مناسب بہت سے لطائف بھی سنایا کرتے تھے۔حافظہ غیر معمولی تھا۔اور قوت لمس بھی بلا کی تھی۔ہاتھ ٹول کر بتادیتے کہ کون ہے۔کتاب مفتاح القرآن ( شائع کردہ کتاب گھر قادیان) کی تدوین میں آپ نے بھی حصہ لیا تھا۔آپ کے زمانہ طالبعلمی میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے بزم احمد کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد رکھی جس کے پریذیڈنٹ حافظ بشیر احمد صاحب جالندھری اور مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر اور سیکرٹری مولوی محمد اسماعیل صاحب ذبیح تھے۔حافظ صاحب اس انجمن کے روح رواں تھے۔بیناؤں کا نا بینا راہبر اخبار ” نوائے وقت“ ۲۰ فروری ۱۹۶۸ء میں حافظ محمد رمضان صاحب مرحوم کی نسبت حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔”ہمارے وطن عزیز میں کثرت سے معذور افراد پائے جاتے ہیں۔بہت ہی کم معذور ہوں گے جنہیں مختلف حرفے سکھا کر اس قابل بنا دیا گیا ہو کہ وہ باعزت روزی کما سکتے ہوں اپنے دیش میں اکثر جب معذوروں کو بھیک کے لئے ہاتھ پھیلاتے دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے گاؤں کا ایک واقعہ یاد آجاتا ہے واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک روز جب لوگ اپنے گاؤں کی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے تو یکدم کیا دیکھتے ہیں کہ تیز آندھی چلنے لگی ہے اور آندھی بھی ایسی کہ آج تک زندگی میں میں نے ایسی آندھی نہیں دیکھی اس وقت آنافا نا مکمل اندھیرا ہوگیا اور اتناسخت اندھیرا تھا کہ بلا شبہ اپنی انگلی بھی نظر نہیں آتی تھی اس وقت بس نمازی بہت گھبرائے اور فکر مند ہوئے کہ اب گھر کیسے پہنچیں گے اتنے میں ایک نابینا حافظ قرآن محمد رمضان نامی کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہا کہ سب میرے پیچھے کھڑے ہو کر لائن بنا لیں اور پشت سے ایک دوسرے کو پکڑ لیں میں سب کی رہنمائی کروں گا اور بس اپنا اپنا نام بولتے جائیں میں سب کو ان کے گھروں تک پہنچا دوں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حافظ صاحب لائن کے آگے گاڑی کے انجن کی طرح چل پڑے اور سب لوگ حافظ صاحب کے پیچھے ایک دوسرے کو پکڑے