تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 729
تاریخ احمدیت۔جلد 24 707 سال 1968ء کرتے رہے۔آپ ہی کی کوشش سے احمدیوں کیلئے علیحدہ قبرستان کا قطعہ زمین حاصل ہوا جس پر حضرت مصلح موعود نے بھی اظہار خوشنودی فرمایا۔۱۹۵۹ء کے لگ بھگ مانچسٹر میں مقیم ہو گئے۔آپ کی زندگی کی اہم ترین خصوصیت تبلیغ اسلام کا جذبہ تھا۔ان کی مساعی سے مانچسٹر میں تین افراد داخلِ احمدیت ہوئے۔۱۹۶۵ء میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور خان بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن مانچسٹر تشریف لے گئے اور تحریک کی کہ لائبریری اور نمازوں کے لئے مستقل کمرہ کا با قاعدہ انتظام ہونا چاہئے جس پر آپ نے فوراً اپنے مکان کا سب سے بڑا کمرہ اس غرض کیلئے وقف کر دیا اور پیشکش کی کہ نمازوں میں تشریف لانے والے تمام دوستوں کی مہمان نوازی کا فریضہ وہ خودسرانجام دیں گے۔چنانچہ ایک لمبے عرصہ تک آپ یہ خدمت بجالاتے رہے اور آپ کا کمرہ نمازوں کے لئے زیر استعمال رہا۔حضرت مصلح موعود سے والہانہ عشق تھا۔کوئی بات ہوتی آپ حضور کا ذکر ضرور فرماتے۔مانچسٹر کے لوکل مسلمان قبرستان میں سپردخاک کئے گئے۔سکواڈرن لیڈ رسید محمدنواز احمد صاحب وفات: ۳ مارچ ۱۹۶۸ء بہت مخلص اور فدائی احمدی تھے۔راولپنڈی میں قیام کے دوران حلقہ صدر کی جماعت کے اور کراچی میں حلقہ ڈرگ روڈ کے صدر رہے۔آپ سید محمد حسین شاہ صاحب کے بیٹے تھے۔حافظ محمد رمضان صاحب فاضل مربی سلسلہ احمدیہ وفات : ۱۳ مارچ ۱۹۶۸ء آپ باوجود نا بینا ہونے کے بلند پایہ عالم دین تھے۔قرآن مجید اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بہت عبور حاصل تھا۔حضور علیہ السلام کا عربی اور اردو منظوم کلام بکثرت یاد تھا جنہیں اپنے وعظوں اور درسوں میں نہایت بلند آہنگی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔آپ کا شمار خوش الحان واعظوں میں ہوتا تھا۔تقسیم ہند سے پہلے حیدر آباد دکن میں رمضان المبارک میں نماز تراویح کے دوران قرآن کریم سنانے کے کئی مواقع آپ کو میسر آئے۔جماعت کے خلاف اعتراضات کا جواب دینے میں ید طولی حاصل تھا۔خندہ پیشانی اور علمی کمالات کے باعث آپ کے تعلقات کا حلقہ بہت وسیع تھا۔خالد احمدیت مولا نا ابوالعطاء صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا:۔"محترم حافظ محمد رمضان صاحب