تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 728 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 728

تاریخ احمدیت۔جلد 24 706 سال 1968ء میں ذرہ برابر فرق نہ آیا۔کشمیر کمیٹی کے زمانہ میں آپ کی جدو جہد سے پنڈی بھٹیاں جو آریہ سماج کا گڑھ تھا ایک سال میں دو تبلیغی جلسے کرائے جن میں مبلغین احمدیت نے آریہ سماج پر اتمام حجت کر دی۔اس عظیم کارنامہ پر شہر کے رئیس اعظم و ذیلدار میاں دوست محمد صاحب بھٹی نے کہا ” بھلا ہو جماعت احمدیہ کا جس نے آریہ سماج کے ہیں سالہ اعتراضات کا قرضہ آج اتار دیا بلکہ فاضلہ قرضہ بھی آج آریہ سماج پر چڑھا دیا۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اپنی تالیف حیات قدی جلد سوم صفحہ ۲۹ پر آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔پنڈی بھٹیاں کے احمدی میاں محمد مراد صاحب درزی نہایت ہی مخلص اور جو شیلے احمدی اور تبلیغ کے دیوانے اور شیدائی ہیں اور جن کی تبلیغ اور عمدہ نمونہ سے عزیزم شیخ عبدالقادر صاحب مبلغ سلسلہ اور ان کے خسر ( یعنی حضرت شیخ عبدالرب صاحب سابق لالہ شیو رام داس والد ماجد جناب شیخ عبدالقادر صاحب محقق ) ہندوؤں سے اسلام اور احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔آپ نے احمدیت کی خاطر بہت سے ظلم و ستم بھی برداشت کیے جن کی ایک مختصر جھلک الفضل ۱۹ را پریل ۱۹۳۶ء کے صفحہ ۴ ، ۵ پر بیان کی گئی ہے۔حکیم سید محمد یعقوب شاہ صاحب آف لگو ضلع منتگمری وفات: ۲/۱۱ فروری ۱۹۶۸ء ۱۹۳۶ء میں حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔موصی بھی تھے اور تحریک جدید کی پنج ہزاری فوج کے سپاہی بھی۔فسادات ۱۹۵۳ء میں بڑی بہادری سے ڈٹ کر اپنے مطب میں بیٹھے رہتے تھے۔غرباء اور مساکین کو مفت دوا دیا کرتے تھے۔علاقہ کے غیر از جماعت لوگ بھی آپ کے حسن سلوک اور باوقار زندگی کے بہت مداح تھے۔چوہدری غلام احمد صاحب آف مانچسٹر، انگلستان وفات: ۱۸ فروری ۱۹۶۸ء آپ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چوہدری غلام محمد صاحب کے صاحبزادہ تھے۔۱۹۳۴ء میں بمبئی میں جابسے اور ایک لمبے عرصہ تک جنرل سیکرٹری کے فرائض ادا