تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 727
تاریخ احمدیت۔جلد 24 705 سال 1968ء ۱۹۶۸ء میں وفات پانے والے مخلصین جماعت اس سال صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ سلسلہ احمدیہ کے متعددممتاز خلصین جماعت نے وفات پائی جن کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے:۔چوہدری محمد شریف صاحب آف فیروز والا وفات: ۱۱جنوری ۱۹۶۸ء جنوری ۱۹۰۳ء میں آپ کو گوجرانوالہ سٹیشن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔فرمایا کرتے تھے کہ حضور کے چہرہ مبارک سے اس وقت نور کی کرنیں نکل رہی تھیں۔۱۹۱۸ء میں داخل احمدیت ہوئے اور مخالفت کے باوجود آخر دم تک کو ہ ثبات و استقلال بنے رہے۔ملازمت کے ابتدائی سالوں میں قانون گوگرد اور رہے اور پھر ریڈر ڈپٹی کمشنر بنے۔آپ کی پرکشش شخصیت سے انگریز افسران تک بہت متاثر ہوتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص بڑا ایماندار اور فرض شناس ہے۔ایک لمبا عرصہ تک جماعت فیروز والا کے پریذیڈنٹ رہے۔مولوی محمد مراد صاحب آف پنڈی بھٹیاں وفات: ۳فروری ۱۹۶۸ء مارچ ۱۹۱۰ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عالم رویا میں زیارت کی جس پر آپ کو صداقت احمدیت پر غیر متزلزل یقین ہو گیا۔خواب کے دوسرے تیسرے روز آپ نے اپنے والدین اور اپنے چھوٹے بھائی میاں احمد دین صاحب (ساکن موضع کوٹ شاہ عالم خاں ڈاکخانہ پنڈی بھٹیاں) کو یہ خواب سنائی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی مامور زمانہ کی صداقت پر شرح صدر عطا فرمایا۔ازاں بعد آپ اپنے چھوٹے بھائی اور اپنے استاذ مکرم میاں علی محمد صاحب کھرل کے ساتھ قادیان تشریف لے گئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔آپ کو قبل از وقت کشفی طور پر دکھایا گیا کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوگئی ہے اور ان کی جگہ حضرت سید نا محمود خلیفہ ثانی مقرر ہوئے ہیں۔آپ ہی کے ذریعہ شیخ عبد القادر صاحب ( سوداگرمل ) وقبول اسلام کا شرف حاصل ہوا جس پر آپ کو شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ اگر آپ کے پائیز استقلال