تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 720 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 720

تاریخ احمدیت۔جلد 24 698 سال 1968ء حضرت چوہدری صاحب کے فرزند مولانا فضل الہی بشیر صاحب (مجاہد افریقہ، ماریشس و بلاد عربیہ ) تحریر فرماتے ہیں:۔” جب آپ تین سال کے ہوئے تو اپنے ننھیال بدوملہی ضلع سیالکوٹ اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ گئے تھے۔آپ کی عمر سات سال کی ہوئی تو آپ کے والد ماجد نے آپ کو سکول میں داخل کرا دیا جو گاؤں میں عیسائیوں کا پرائمری سکول تھا۔پانچویں پاس کی اور دوروپے وظیفہ حاصل کیا اور گوجرانوالہ مشن ہائی سکول میں داخل ہوئے۔یہاں مڈل انگریزی کا امتحان پاس کیا۔پھر اسلامیہ ہائی سکول میں نویں کلاس میں داخلہ لے لیا۔مگر افسوس گاؤں کے دوسرے لڑکے تعلیم چھوڑ گئے تو آپ نے بھی تعلیم چھوڑ دی۔اس کے بعد موضع نت میں مشن سکول میں دو سال بطور استاد کام کیا۔اس کے بعد اپنے ننھیال بدوملہی گئے اور چوہدری سرفراز خان صاحب سے سفارشی چٹھی لکھوا کر چوہدری سلطان احمد صاحب افسر مال گوجرانوالہ کے پاس لائے۔انہوں نے مہتمم صاحب بند و بست گوجرانوالہ کے پاس سفارش کر کے آپ کا نام پٹوار میں درج کرایا۔سیالکوٹ میں اپنے ماموں کے چچازاد بھائی چوہدری عنایت اللہ صاحب بیرسٹر کے گھر میں رہے۔سید حامد شاہ صاحب نے آپ کو پٹوار کے سکول میں داخل کروا دیا۔آپ سکول میں پڑھتے بھی تھے اور بیرسٹر صاحب کا کام بطور ایجنٹ بھی کرتے تھے۔پٹوار کا امتحان پاس کر کے گاؤں آگئے اور ہری چند پٹواری ساکن تلونڈی راہوالی کے پاس ہر روز جاتے اور عملی تجربہ حاصل کرتے اور اس کے بعد مہتمم صاحب بندو بست کے پاس حاضر ہو کر ملازمت کی درخواست دی۔صاحب بہادر نے آپ کو پاکھڑے والی خورد تحصیل گوجرانوالہ میں پٹواری بندو بست لگا دیا۔آپ فرماتے تھے کہ اس کے بعد میں پندرہ سال پٹواری رہا۔ایام پٹوار میں دیانتداری سے کام کرتا رہا۔کسی غریب اور بیوہ کا نقصان نہ کیا اور کسی بڑے آدمی کے رعب میں آکر حق کو نہیں چھوڑا۔اس کے بعد میں ۱۹۲۲ء میں قانون گوبھرتی ہو گیا۔پندرہ سال تک قانون گورہا۔ان ایام میں بڑے بڑے آدمی خواہش رکھتے تھے کہ کمزوروں اور غریبوں کا حق مار کر فائدہ اٹھائیں لیکن میں نے کسی کی پرواہ نہ کی اور حق کو نہ چھوڑا۔جس کی وجہ سے سب افسروں کے دل میں میری عزت تھی۔رشوت خور افسر اور بڑے آدمیوں کا لحاظ کرنے والے افسر مجھ سے ناجائز کام کرنے کیلئے کہتے تو میں ایسے افسروں کی بات بھی نہ مانتا تھا۔جس کے سبب غریب پبلک میں بڑی عزت قائم ہوگئی اور بڑے آدمیوں پر میرا رعب قائم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام عمر نوکری میں میرے پر کوئی الزام نہ آیا اور سرخروئی سے ۱۹۴۰ء میں میں