تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 705 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 705

تاریخ احمدیت۔جلد 24 683 سال 1968ء اور قصہ و ہیں ختم ہو گیا۔جب ہم دونوں دفتر علمائے دیو بند پہنچے اور وہاں کے انچارج مولوی صاحب کو پیغام دیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس چوکیدار کو ہدایت کر دوں گا کہ وہ جھگڑا نہ کرے۔وہاں بہت سے علماء جمع تھے اور وہ ان کی دعوت وغیرہ کا انتظام کر رہے تھے مگر وقت بچا کر ہمیں کہنے لگے ایک بات تو آپ لوگ بتلائیں۔ہم حیران ہیں کہ جس کسی مولوی کو کسی گاؤں میں شدھی وغیرہ روکنے کے لئے بھیجتے ہیں اس کو معقول تنخواہ دیتے ہیں۔سفر خرچ دیتے ہیں۔کسی گاؤں میں رہنے کے دیگر اخراجات بھی دیتے ہیں مگر وہ مولوی تھوڑے دنوں کے بعد ہمیں کہتا ہے کہ میں وہاں نہیں رہ سکتا، وہاں یہ آرام نہیں ہے فلاں سہولت نہیں، فلاں تکلیف ہے، یہ ہے ، وہ ہے۔غرض وہ وہاں نہیں رہتا۔اور ناراض ہو کر چلا آتا ہے آپ لوگوں کے پاس وہ کون سا جادو ہے جس کے اثر سے آپ کے آدمی اپنی تنخواہ اور اپنا کرایہ خرچ کر کے اپنے خرچ پر گاؤں گاؤں پھرتے ہیں۔بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ماریں کھاتے ہیں۔دکھ اٹھاتے ہیں پھر بھی خوش بخوش ہیں۔اس میں کیا راز ہے؟ ہم تو آپ لوگوں کے متعلق سوچ کر حیران رہ جاتے ہیں۔یہ بات کہنے والے بڑے عالم تھے۔ہم نے کہا آپ دانا ہیں خود ہی سوچ لیں۔وہ مسکرا پڑے اور ہم چلے آئے۔اسی ذکر میں کہ احباب نے علاقہ ملکانہ کے جہاد میں کیسی کیسی جاں نثاری دکھلائی اور کیسی مشکلات کی زندگی کائی ، میں حکیم فضل حق صاحب بٹالوی مرحوم کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔میں جن دنوں میں آگرہ میں حسابات تیار کر رہا تھا حکیم فضل حق صاحب مرحوم آگرہ آئے۔انہوں نے مجھے بتلایا کہ میں الور میں متعین ہوں جو اس پہاڑ کے دامن میں ہے جہاں حضرت کرشن جی مہاراج عبادت کیا کرتے تھے۔وہاں بے شمار سانپ ہیں اور کہتے تھے کہ ہم لوگ نماز عشاء پڑھ کر جب چار پائیوں پر جا کر سو جاتے ہیں تو صبح تک چار پائی سے نیچے نہیں اترتے کہ مبادا نیچے سانپ ہو اور وہ ہمیں کاٹ کھائے“۔حضرت شیخ صاحب ملازمت سے پنشن پانے کے بعد خدمات سلسلہ اور جناب الہی کی طرف 50- سے رزق غیب کے سامانوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:۔غالباً آخر ۱۹۳۴ء میں مجھے پھر لاہور چھاؤنی تبدیل کر دیا گیا۔بار بار کے تبادلوں سے میری طبیعت اکتا گئی تھی۔میں چاہتا تھا کہ کسی طرح مجھے پنشن مل جائے اور میں قادیان میں بقیہ زندگی گزاروں۔سو اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کر دی اور طبی لحاظ سے نا قابل ملازمت قرار دیا۔جا کر لاہور چھاؤنی سے غالبا سمبر ۱۹۳۵ء میں قبل سبکدوشی طویل رخصت پر اپنے گھر قادیان آگیا۔مجھے یاد