تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 704 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 704

تاریخ احمدیت۔جلد 24 682 سال 1968ء فرمایا کہ ہم اس شرط پر ایک ہزار روپیہ دیتے ہیں کہ وہ پچھلا حساب دیں اور آپ جا کر اور کوئی کام نہ کریں، محض ان سے حساب لے کر پڑتال کریں اور ہمیں رپورٹ کریں۔آج سے آپ اُن کے ماتحت نہیں رہیں گے براہ راست ہمارے ماتحت ہوں گے اور ہمارے احکامات کی تعمیل کریں گے ورنہ یہ ایک ہزار روپیہ آپ سے لیا جائے گا۔میں روپیہ لے کر آگرہ پہنچا اور چوہدری صاحب کو حضرت کا ارشاد سنایا اور حساب مانگا۔انہوں نے مجھے کاغذات حساب دے دئے جو میں نے پڑتال کر کے حضرت کے حضور پیش کئے مشکل حل ہوئی۔حسابات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ حضرت چوہدری صاحب موصوف کی رقم بیچ میں خرچ ہو چکی ہے جو چوہدری صاحب کو یاد نہیں رہی تھی اور وہ رقم میں نے ان کو واپس دلائی۔یک صد سے زیادہ تھی۔انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک احمدی دوست کسی گاؤں میں ملکانہ کی شدھی روکنے کے لئے متعین تھے۔وہاں دیوبند کے علماء کی طرف سے کوئی چپڑاسی یا چوکیدار بھی تھا جو ہمارے مخالف مسلمانوں کو جوش دلا کر جھگڑا پیدا کر دیا ( کرتا ) تھا۔مجھے چوہدری صاحب موصوف نے حکم دیا کہ میں دہلی جا کر مولانا کفایت اللہ صاحب سے جو علماء دیوبند کے سرگروہ تھے ملوں اور ان سے ذکر کروں کہ وہ اپنے آدمی کو سمجھا دیں کہ وہ ہمارے کام میں رکاوٹ نہ ڈالے۔میں دہلی پہنچا۔وہاں ایک احمدی دوست عبد الرحمن صاحب فرنیچر ڈیلر کو ہمراہ لے کر مولانا صاحب سے ملاقات کی۔وہاں سعید احمد صاحب یا احمد سعید صاحب سے بھی ملا۔مولانا کفایت اللہ صاحب نے حالات سن کر مولوی سعید احمد صاحب کو کہا کہ اپنے آدمی کو تنبیہ کر دیں کہ وہ جھگڑا نہ کریں۔انہوں نے مجھے فرمایا کہ فلاں بازار میں ہمارا دفتر ہے اور فلاں مولوی صاحب دفتر کے انچارج ہیں، آپ ان کو یہ رقعہ دے دیں۔ہم دونوں وہاں جانے لگے تو مولانا احمد سعید صاحب کہنے لگے کہ یہ شدھی کا قصہ ختم ہوئے تو ہم تمام احمد یوں کے خلاف ایک محاذ قائم کریں گے اور آپ لوگوں کی ایسی خبر لیں گے کہ آپ کو ہوش آ جائے گی۔میں نے جوش سے عرض کیا کہ مولانا ہم تو خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مخالفت میں سارا زور لگا لیں اور پھر آپ بھی دیکھیں گے اور ہم بھی دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کس کی مدد کرتا ہے۔مولانا کفایت اللہ صاحب بھی میری بات سن رہے تھے مگر انہوں نے کوئی بات نہ کہی۔راستہ میں مجھے عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ خدا نے ہی تصرف کیا ورنہ یہ احمد سعید صاحب بڑے جوشیلے اور لڑا کے ہیں۔خدا جانے یہ سب کچھ سن کر خاموش کیسے رہے؟ ہم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ بات نے طول نہ پکڑا