تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 702 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 702

تاریخ احمدیت۔جلد 24 680 سال 1968ء انبالہ میں مجھے خوش نصیبی سے حضرت چوہدری رستم علی صاحب مرحوم کی پاکیزہ صحبت نصیب ہوئی جس کا میرے دل پر گہرا نقش ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنے خاص برکات نازل فرمائے۔آمین ۱۹۰۷ ء کے ابتداء میں خاکسار کو اپنی ملازمت کے سلسلہ میں انبالہ سے کا کا جانا پڑا جہاں سے میں نے سید نا حضرت خلیفہ امسیح الاول کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور غالبا اگست ۱۹۰۷ء یا اس کے قریب قادیان آیا اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول سے عرض کیا کہ میں دستی بیعت آپ کی وساطت سے کرنی چاہتا ہوں۔اس پر حضور مجھے مسجد مبارک میں نماز ظہر کے وقت اپنے ساتھ لے گئے۔مسجد میں داخل ہوتے وقت حضرت خلیفہ المسیح الاول نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا مگر جب حضور نے دیکھا کہ بعض احباب بیعت کر رہے ہیں تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول آگے محراب کے پاس تشریف لے گئے اور میں مسجد مبارک میں بیعت کرنے والوں کے پاس بیٹھ گیا۔اس وقت کسی دوست ( غالباً اکمل صاحب) نے مجھے کہا کہ آپ نے بیعت کرنی ہے؟ میرے اثبات میں جواب دینے پر کہا کہ اپنے آگے بیٹھے ہوئے کسی بیعت کرنے والے دوست کی کمر پر ہاتھ رکھ دو اور بیعت کے الفاظ دہراتے جاؤ ، جس کی میں نے تعمیل کی۔بیعت ختم ہونے پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الاول نے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ یہ دوست حضور کی بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں۔حضور نے میری طرف نظر کی اور فرمایا کہ کیا آپ نے بیعت نہیں کی؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کر لی ہے۔اس بات کا مجھے اب تک قلق ہے کہ میں نے کیوں پہلے احباب کے ساتھ بیعت کی، کیوں نہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے ارشاد کا منتظر رہا؟ اگر حضرت اقدس کے ہاتھ پر علیحدہ بیعت کرتا تو بہت بہتر ہوتا مگر میری غفلت کی وجہ سے ایسا ہی ہونا بہتر تھا۔اس کے بعد میں اس جگہ بیٹھا رہا اور حضور کا چہرہ مبارک دیکھ دیکھ کر درود شریف پڑھتا رہا۔اس وقت حضور مولوی محمد علی صاحب سے انگریزی اخبار (غالباً سول اینڈ ملٹری گزٹ، لاہور) کی خبریں سن رہے تھے۔اس کے بعد میں انبالہ واپس آگیا اور ۱۹۰۸ء میں کسولی (KASAULI) پہاڑ پر چلا گیا جہاں مجھے بابو عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر ملے جنہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی خبر سنائی۔ستمبر ۱۹۱۰ء میں بعض مشکلات کے پیش نظر اور سلسلہ کی خدمت کے لئے استعفیٰ دے دیا مگر ۱۹۱ء کے آخر میں حضرت خلیفہ اول نے پھر ملا زمت سرکار کے دوبارہ حصول کیلئے ارشاد فرمایا اور دعا کا وعدہ بھی فرمایا۔حضور کی دعا کی برکت سے مجھے جلدی پھر ملازمت مل گئی اور میں نے آخر ۱۹۳۵ء تک ملازمت ختم کر کے پیشن حاصل