تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 699 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 699

تاریخ احمدیت۔جلد 24 677 سال 1968ء اور مولوی عالم تک تعلیم حاصل کی۔آپ سیالکوٹ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے درس میں شامل ہوتے تھے۔اسی طرح بعض اور احمدی بزرگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملتا رہا۔نیک صحبت، درس میں شمولیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند کتب کا مطالعہ آپ کے شرح صدر اور آپ کی سعید فطرت میں تخم ریزی اور آبپاشی کا موجب بنا۔آپ نے بیعت کے متعلق کسی سے مشورہ نہیں لیا اور مکرم مولوی مبارک علی صاحب کے ہمراہ دسمبر ۱۸۹۶ء میں قادیان پہنچے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ نے از راہ شفقت آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گرم واسکٹ بطور تبرک عنایت فرمائی تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعوت الی اللہ کا ایک خاص شوق عطا فرمایا تھا۔آپ جہاں ملازمت کرتے تھے وہاں اپنے انگریز افسر کو دعوت الی اللہ کرتے رہے اسی طرح آپ کے سسرال کے چالیس افراد آپ کی دعوت سے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔آپ ایک دعا گو بزرگ تھے۔آپ کی قبولیت دعا کے کئی واقعات مشہور ہیں۔آپ ۲۱ جون ۱۹۶۸ء کو فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔آپ کئی سال احمد یہ ہال کراچی میں رہائش پذیر رہے۔- اولاد ۱۔عبدالحئی خان صاحب ۲۔اقبال احمد خان صاحب مرحوم حضرت حافظ ملک محمد صاحب پٹیالوی ولادت قریباً ۱۸۸۰ء بیعت تحریری: ۹۵-۱۸۹۴ء بیعت دستی : ۱۸۹۷ء وفات: ۱۴ جولائی ۱۹۶۸ء حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے بڑے بھائی تھے۔آپ اپنے برادر اکبر حضرت محمد یوسف صاحب خرامی کے ذریعہ داخلِ احمدیت ہوئے۔پہلی بار آپ وسط ۱۸۹۷ء میں زیارت مسیح موعود علیہ السلام کی غرض سے قادیان پہنچے اور جلسہ احباب ( منعقدہ ۲۲ جون ۱۸۹۷ء) میں شرکت فرمائی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شامل جلسہ ہونے والے مخلصین کی مفصل فہرست شائع فرمائی اور ۸۷ نمبر پر محمد یوسف صاحب کا اور ۸۸ نمبر پر آپ کا نام درج ہوا۔حضرت حافظ صاحب بیان فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بعد میں متعدد بار قادیان گیا لیکن واقعات یاد نہیں رہے۔مسجد مبارک میں نماز پڑھنا یاد ہے جس میں ایک صف میں بمشکل چھ آدمی کھڑے ہو سکتے تھے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے۔حضرت مولوی