تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 690 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 690

تاریخ احمدیت۔جلد 24 668 سال 1968ء تقسیم ملک سے پہلے بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وکلا ء صاحبان کسی مقدمہ کے سلسلہ میں عدالت کے رویہ اور فریق ثانی کی ذہنیت کے پیش نظر نیا ریکارڈ تیار کرنے کا مشورہ دیتے۔ان کے ایماء پر اور سلسلہ کے مفاد کی خاطر جبکہ مقدمہ کی تاریخ دوسرے دن ہوتی ،مولوی صاحب نیاریکارڈ تیار کرنے میں منہمک ہو جاتے۔بعض اوقات رات کے بارہ بجے تک ہم دونوں اس سلسلے میں کام کرتے تھے لیکن پھر بھی اگلے دن مولوی صاحب مرحوم گورداسپور جانے کے لئے صبح ریلوے اسٹیشن قادیان پر مجھ سے پہلے پہنچے ہوتے تھے جبکہ مولوی صاحب کا گھر محلہ دارالرحمت میں اور عاجز کا گھر محلہ دار البرکات میں ریلوے سٹیشن کے نزدیک ہی تھا۔۱۹۳۴ء و ۱۹۳۵ء جماعت احمدیہ کی تاریخ میں خاص سال تھے۔اس وقت کی انگریزی حکومت اور گورنر مسٹر ایمرسن اپنے زعم میں جماعت احمدیہ کو ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ہر قسم کے معاندانہ اور مخالفانہ حربے جماعت کے خلاف استعمال کئے گئے مگر تائید ایزدی اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی قیادت ، ذہانت اور آپ کی روحانیت نے سفینہ احمدیت کو ان متلاطم امواج میں سے ساحلِ سمندر پر بتمام حفاظت پہنچادیا۔مقدمہ عید گاہ ، مقدمہ ریتی چھلہ اور مقدمہ قبرستان ایک منظم اور سوچی سمجھی سازش کے ماتحت کئے گئے اور یہ مقدمات تاریخ احمدیت میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جبکہ انگریزی حکام کی پالیسی سراسر مخالفانہ تھی۔ایک واقعہ بھی نہیں بھولتا۔قادیان کی قدیم عید گاہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی مقبوضہ تھی اور قادیان کے مغرب کی طرف واقع ہے۔اس عید گاہ کے پاس ہی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندانی قبرستان موجود ہے جس میں حضور علیہ السلام کی والدہ ماجدہ، حضور علیہ السلام کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب اور حضور علیہ السلام کے پردادا مرزا گل محمد صاحب وغیر ہم مدفون ہیں۔ہمارے لئے یہ ایک تاریخی مقام ہے اس عیدگاہ کی زمین کی پیمائش اور بعض جگہوں کو ہموار کرنے کیلئے میں کام کی نگرانی کر رہا تھا۔قادیان کے ایک سب انسپکٹر سردار خوشحال سنگھ نے مجھے ہتھکڑی لگالی اور اس کے علاوہ آٹھ اور احمدیوں کو بھی ہتھکڑی لگا لی۔مہتہ عبدالرزاق صاحب ابن حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اس منظر کا فوٹو لے رہے تھے ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور ہمیں عمداً قادیان کے ہند و بازار کا طویل راستہ اختیار کرتے ہوئے ہتھکڑیوں سمیت لایا گیا۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس وقت ڈاکٹر سیف الدین صاحب کچلو بھی قادیان آئے تھے اور اس مقدمہ میں بھی وہ پیش ہوئے۔اس وقت مرحوم مولوی صاحب نے اس مقدمہ اور عید گاہ کی اراضی کا