تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 688
تاریخ احمدیت۔جلد 24 666 سال 1968ء حضور نے آپ کو قضا میں مقرر فرمایا۔بعد ازاں آپ مشیر قانونی کے عہدہ پر ممتاز ہوئے اور سالہا سال تک اس نہایت اہم اور نازک فریضہ کو انتہائی بے جگری کے ساتھ والہانہ انداز میں انجام دیتے رہے۔مقدمات کی تیاری کے سلسلہ میں آپ کی توجہ، محنت اور انجاک ضرب المثل تھا۔آپ کسی مقدمہ کے مثبت اور مضبوط پہلوؤں پر ہی نگاہ نہیں رکھتے تھے بلکہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے کہ مقدمہ کے کمزور پہلوؤں کو ثبوت اور دلائل سے مضبوط کر کے کمرہ عدالت میں داخل ہوں۔آپ مقدمہ کی تیاری اور پیروی کرتے ہوئے اپنی کلی توجہ اور انہماک کے باعث مقدمہ سے یوں چمٹ جاتے تھے کہ فریق مخالف کے بڑے قابل اور ہوشیار وکیل بھی آپ کی بحث اور دلائل سے بچ کر نہیں نکل سکتے تھے۔غالبا ۱۹۳۷ء میں ایک مقدمہ بٹالہ کی عدالت میں پیش تھا۔صرف ایک سال کے عرصہ میں ایک سو گیارہ دفعہ عدالت کی نشست ہوئی۔باوجود یکہ آپ کا قادیان میں مکان اسٹیشن سے بہت دور تھا لیکن ہر صبح پانچ بجے کی گاڑی سے بٹالہ جانے کے لئے بر وقت پہنچ جاتے۔شام چار بجے جب عدالت برخواست ہوتی تو ساڑھے چار بجے کی ٹرین سے واپس قادیان آتے۔اگر کبھی گاڑی چھوٹ جاتی تو پھر رات نو بجے والی گاڑی سے واپسی ہوتی لیکن آپ کبھی لیٹ یا بغیر تیاری عدالت میں نہیں گئے۔حضرت مولوی صاحب بہت وضعدار نفاست پسند ، اپنوں اور غیروں کے کام آنے والے تھے۔مہمان نوازی سے بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔ہر چھوٹے بڑے سے بہت پیار سے اور عزت سے ملتے۔سنجیدہ علمی ذوق اور مشاغل کے ساتھ ساتھ آپ کی گفتگو زندہ دلی کی حامل بھی ہوتی تھی۔بہت حلیم الطبع تھے۔کسی کی ذراسی تکلیف بھی بے چین کر دیتی تھی۔بہت صابر بزرگ تھے۔چہرہ پر ہمیشہ اطمینان اور صبر وسکون کی جھلک نمایاں رہتی۔ابتداء میں پرائیویٹ وکالت شروع کی تو بھی اپنا قومی لباس پہنتے اور چار پانچ پگڑیاں تیار رہتیں جو آپ صبح و شام اہتمام سے بدلتے۔بعد میں جب حضرت المصلح الموعود نے قادیان طلب فرمایا اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے تو آپ کے پاس اگر چہ ایک ہی عمامہ ہوتا لیکن اسے رات کو دھلوا ر کھتے تھے۔بہت غیرت مند اور بے نفس انسان تھے۔دنیا داری کی کوئی بات ان میں نہ تھی۔صدر انجمن کی ملازمت سے جب ریٹائر ہونے کے قریب تھے تو اس وقت آپ کی تنخواہ ڈیڑھ صد روپیہ کے لگ بھگ تھی۔حضرت امصلح الموعود کو جب آپ کی اتنی کم تنخواہ کا علم ہوا تو حیران ہوئے اور اس تنخواہ کو تقریباً دگنا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی