تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 684 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 684

تاریخ احمدیت۔جلد 24 662 سال 1968ء آپ کے بیان کے مطابق حضرت اقدس ان دنوں اپریل ۱۹۰۵ء میں اپنے باغ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔جمعہ کے دن آپ نے بیعت کی درخواست کی اور حضور نے اسے قبول فرماتے ہوئے اسی روز عصر کے وقت بیعت کا شرف عطا فرمایا۔آپ کا تحریری بیان ہے کہ ہمارے گاؤں میں ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر شیخ شہاب الدین کی معرفت پہنچا۔1900ء میں ماہل پور سے قریباً چالیس بیعت کنندگان کی فہرست جو چالیس افراد پر مشتمل تھی حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجی گئی۔اپریل ۱۹۰۵ء میں آپ نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔آپ کے ہمراہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی علی بخش صاحب، چا زاد بھائی کریم بخش صاحب اور بچپن کے دوست بابو محمد نظام الدین صاحب تھے۔حضور ان دنوں زلزلہ کانگڑہ کے باعث اپنے باغ میں قیام فرما تھے۔دستی بیعت کے وقت آپ حضور ہی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔الفاظ بیعت دہراتے ہوئے جب حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو ایک شخص کی چیخ نکل گئی اور لوگوں پر لرزہ طاری ہو گیا۔حضور علیہ السلام نے بیعت کے بعد دعا کی جس کے بعد اپنی قیامگاہ میں تشریف لے گئے۔دوسرے دن حضور علیہ السلام ظہر کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو حضور علیہ السلام کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جو حضور علیہ السلام نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کو دے کر فرمایا کہ یہ اشتہار لے جائیں اور لاہور سے چھپوا لائیں۔جناب مفتی صاحب ایک سادہ لباس میں ہی وہ کاغذ لے کر اڈاخانے کو چلے گئے۔بیعت سے دوسرے دن کا ذکر ہے کہ میں باہر کھڑا کچھ نظارہ دیکھ رہا تھا۔جب میں نے اپنے بائیں طرف دیکھا تو کچھ فاصلہ پر کچھ آدمی کھڑے ہیں۔معلوم ہوا کہ حضور اقدس باہر تشریف لائے ہیں۔میں یہ کہہ کر بے تحاشا اسی طرف دوڑ پڑا اور میں ابھی چند قدم پیچھے تھا کہ حضور علیہ السلام اس جمگٹھے سے نکل کر میری طرف دو تین قدم آگے تشریف لائے۔میں نے حضور علیہ السلام سے مصافحہ کیا۔آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے عہد کا ایک واقعہ بھی اپنے بیان میں بتایا کہ جس سال حضرت خلیفہ المسیح سے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب قرآن کریم بطور درس پڑھتے تھے ( یہ فروری ۱۹۱۳ء کا واقعہ ہے۔اس کے بارہ میں اخبار بدر قمطراز ہے "حضرت صاحبزادہ بشیر احد صاحب کو ایک جماعت کے ساتھ صبح بعد نماز فجر حضرت خلیفہ المسیح نے ایک درس قرآن شریف کا دینا شروع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ بیرونی اصحاب جو اس موقعہ پر آسکتے ہیں آکر شامل ہو جائیں۔دور کوع روزانہ ہوتے