تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 683 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 683

تاریخ احمدیت۔جلد 24 661 سال 1968ء قادیان میں ملازم ہو گئے۔ابتداء کلرک بنے اور پھر اپنے اخلاص، محنت و استقلال کی بدولت خزانچی اور محاسب اور بالآخر آڈیٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔آپ بہت دیندار، دعا گو اور صاحب رؤیا و کشوف بزرگ تھے۔وفات: آپ نے مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۶۸ء کو صبح ساڑھے آٹھ بجے لاہور میں وفات پائی۔آپ کا جنازہ اسی روز شام کو لاہور سے ربوہ لایا گیا۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بعد از نماز عشاء آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔بعد میں جنازہ بہشتی مقبرہ لے جا کر آپ کی تدفین قطعہ صحابہ میں کی گئی۔اولاد (۱) سید محمد احمد صاحب۔بی۔اے ایل ایل بی وکیل (۲) ڈاکٹر رشید عالم صاحب (۳) میمونہ صاحبه (۴) بشری صاحبہ (۵) حمیدہ صاحبہ (۶) صادقہ صاحبہ حضرت غلام فاطمہ صاحبہ بیعت سن کی تعیین نہیں ہوسکی وفات یکم مئی ۱۹۶۸ء آپ حضرت میاں احمد دین صاحب زرگر صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہلیہ تھیں۔آپ نہایت مخلص ، نیک صوم و صلوۃ کی پابند اور مہمان نواز نیز امام وقت کی آواز پر لبیک کہنے والی تھیں آپ کے والد حضرت احمد جان صاحب پشاوری بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔حضرت میاں محمد حسین صاحب کشمیری بیعت : سن کی تعیین نہیں ہو سکی وفات: ۵ مئی ۱۹۶۸ء 18 آپ نے 10 سال کی عمر پانے کے بعد گھٹیالیاں میں وفات پائی۔آپ بڑے دلیر، نڈرا ورصوم و صلوۃ کے پابند تھے۔آپ کی کوئی نرینہ اولا د ی تھی۔حضرت میاں اللہ دتہ صاحب آف ماہل پور ضلع ہوشیار پور ولادت: ۱۸۸۸ء بیعت تحریری: ۱۹۰۰ء ١٩٠٠ء بیعت دستی: اپریل ۱۹۰۵ ء وفات: ۱۴مئی ۱۹۶۸ء