تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 672
تاریخ احمدیت۔جلد 24 650 سال 1968ء (۲) میری بیوی کے دادا صاحب منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی نے احتکار ( ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنا۔اجناس کا ذخیرہ کرنا) کے مسئلہ کے متعلق حضور سے دریافت کیا۔حضور نے جواب میں خط لکھا جو میرے پاس کافی عرصہ تک محفوظ رہا مگر اب گم ہو گیا ہے۔حضور نے تحریر فرمایا تھا کہ احتکار نا جائز ہے۔غالباً اس کے آگے احتکار والی حدیث بھی درج فرمائی تھی۔(۳) میرے استاد مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ اس دفعہ آپ تو قادیان نہیں گئے۔میں گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کے پاس چند مجلدات حقیقۃ الوحی پڑی تھیں۔میں نے السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کیا تو حضور نے میری طرف دیکھا۔السلام علیکم کا جواب دیا اور فرمایا کہ مولوی صاحب آپ بڑی دیر کے بعد آئے ہیں۔میں اپنے دل میں بہت شرمندہ ہوا اس بات پر کہ میں تو یہی خیال کرتا تھا کہ حضرت صاحب مجھے پہچانتے نہیں۔اس کے بعد حضور نے ایک جلد حقیقۃ الوحی کی اپنے ہاتھ مبارک سے مجھے دی اور فرمایا کہ یہ آپ کے لئے تحفہ ہے۔اس کو خوب پڑھو۔ابتداء سے لے کر آخر تک پڑھو اور اس کے بعض مطالب مخالفوں کو سناؤ۔(۴) جب حضرت صاحب کا لیکچر لاہور میلا رام کے منڈ وہ میں ہوا ہے اس وقت میں پولیس سواروں میں ملازم تھا اور میری ڈیوٹی بھی اس موقعہ پر لگی ہوئی تھی۔جب حضرت صاحب لیکچر سے فارغ ہو کر واپس آرہے تھے اور آپ بند گاڑی میں سوار تھے۔اس وقت میں نے سڑک کے کنارے پر ایک مولوی دیکھا جس کے سر کے بال بہت لمبے تھے اور داڑھی بھی لمبی تھی۔ننگے سر تھا۔جب حضرت صاحب کی گاڑی وہاں سے گزری تو وہ عورتوں کی طرح پیٹ رہا تھا اور اپنے سر کے بال نوچ رہا تھا اور کہتا تھا ”ہائے ہائے مرزا۔جس سڑک پر سے حضرت صاحب نے گذرنا تھا اس پر پولیس کا بڑا مضبوط پہرہ تھا۔آپ کے نواسہ امین الدین صاحب طاہر کا بیان ہے:۔قادیان کے سفر کے بعد آپ لمبا عرصہ قادیان نہ جا سکے۔اسی اثنا میں پولیس میں ملازمت اختیار کر لی۔جب ملازمت کو تھوڑا عرصہ گذرا آپ کو لاہور میں متعین کر دیا گیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی تو اس وقت آپ بھی لاہور تھے اور روزانہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔جب آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا علم ہوا تو آپ نے افسر