تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 50 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 50

تاریخ احمدیت۔جلد 24 50 سال 1967ء تعداد میں تھے، بلاوجہ اشتعال دلاتا رہا۔آخر اس کی اشتعال انگیزی رنگ لائی۔۱۹ / اپریل کو شام کے قریب بہت سے غیر احمدی محمد سعید بٹ پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ مانانوالہ کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ شام تک مسجد اپنے ہاتھوں سے گرا دو اور آئندہ کے لئے اذان دینا بند کر دو اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہم خود گرادیں گے۔بٹ صاحب نے جواب دیا کہ ہمارا کام مساجد تعمیر کرنا ہے، گرانا نہیں۔یہ سن کر وہ لوگ واپس چلے گئے اور جب اندھیرا چھا گیا تو تیار ہو کر آئے اور احاطہ کا بیرونی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور مسجد کو گرا دیا۔چھت کی لکڑیاں اور دیگر ملبہ کا سامان اور نلکے کا ہینڈل تک لوٹ کر لے گئے۔مسجد کی الماری میں مقامی جماعت کے چندہ کا جورجسٹر کھاتہ اور رسید بکس تھیں ،حملہ آور وہ بھی ہمراہ لے گئے۔پولیس اگلے دن دو پہر کے بعد موقعہ پر پہنچی اُس نے اپنی آنکھوں سے مسمار شدہ مسجد کا مشاہدہ کیا۔لوگوں نے اقرار کیا لیکن اس کے باوجود کئی دن تک نہ مسجد کا لوٹا ہوا مال برآمد کیا گیا اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔جب کئی دن تک کوئی کارروائی نہ ہوئی اور جماعت کی طرف سے حکام بالا کو توجہ دلائی گئی تو پولیس نے یہ کاروائی کی کہ مسجد گرانے والوں میں سے چند پر خفیف سی قابل ضمانت دفعہ لگا کر گرفتار کر لیا اور وہ جاتے ہی ضمانت پر واپس آگئے۔لیکن احمدیوں کا چونکہ یہ قصور تھا کہ وہ کمزور اور تھوڑے تھے اس لئے اس قصور کی پاداش میں جماعت کے پریذیڈنٹ محمد سعید صاحب کو ایک ایسی دفعہ کے ماتحت گرفتار کر لیا گیا جس کی وجہ سے دس گیارہ دن تک ان کی ضمانت نہ ہو سکی۔علمی تقاریر مجلس ارشاد مرکز یہ اور اس کا ملک گیر پروگرام 44 ۱۹۶۷ء میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے علمی تقاریر کے اجلاسوں کا نام، جومرکز میں حضور کی نگرانی میں منعقد ہورہے تھے مجلس ارشاد مرکز یہ تجویز فرمایا اور اپریل ۱۹۶۷ء میں ہدایت فرمائی کہ اس مرکزی مجلس کے پروگرام کے مطابق ہر بڑی جماعت کراچی، ملتان، منٹگمری (ساہیوال)، لاہور، سیالکوٹ، گجرات، راولپنڈی، سرگودھا، لائکپور، ڈھا کہ میں یہ اجلاس مرکزی تاریخ پر امیر جماعت کے زیر انتظام منعقد ہوں۔نیز ہر جگہ اس مجلس کا نام ” مجلس ارشاد ہو گا۔چنانچہ حضور کی اس ہدایت کے مطابق مرکز کے علاوہ ملک کی بڑی بڑی جماعتوں میں بھی علمی تقاریر کا سلسلہ زوروشور سے شروع ہو گیا۔اور جماعت کے ہر حلقے میں حصول علم کا ایک نیا جذ بہ اور ذوق اور شوق دیکھنے میں آنے لگا۔