تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 661
تاریخ احمدیت۔جلد 24 639 سال 1968ء ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوى وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلى عَبْدِهِ مَا اَوْحَى (النجم : ۴ تا ۱۱) کی نہایت پر معارف اور لطیف تفسیر بیان فرمائی جس کے دوران حضور نے کائنات کی پیدائش کے نہایت درجہ بلیغ نظام اور اس کے مقصد کو واضح فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ، آئمہ سلف کی تحریرات، انبیاء سابقہ کی شہادات اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پر معارف حوالہ جات کی رُو سے حقیقت محمدیہ پر نئے اور ا چھوتے انداز میں روشنی ڈالی اور حکیمانہ انداز میں واضح فرمایا کہ عالمین کی پیدائش کی وجہ اور اس کی علت غائی در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود ہے۔اس لئے آپ ہی اشرف المخلوقات ، نبیوں کے سردار اور خاتم النبیین ہیں اور اس وقت سے ہیں جبکہ ابھی نہ کائنات بنی تھی اور نہ آدم علیہ السلام کی تخلیق عمل میں آئی تھی۔دنیا میں مبعوث ہونے والے سب انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود سے فیض یافتہ تھے۔اگر عالم قضا و قدر میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا وجود باجود جو صفات الہیہ کا مظہر اتم ، کامل ترین انسان، نبیوں کا سردار، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور اولین و آخرین کا مربی ومحسن ہے پیدا کرنے کا فیصلہ نہ فرماتا تو عالم موجودات جو عالم قضاو قدر ہی کا عکس ہے کبھی معرض وجود میں نہ آتا، یہ کائنات پیدا ہوتی اور نہ کوئی نبی مبعوث ہوتا۔یہ کائنات محض اس لئے معرض وجود میں آئی کہ عالم قضا و قدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود با جود پہلے سے موجود تھا۔اس لئے آپ کا وجود عالم موجودات پر ازل سے مؤثر ہے اور تا قیامت رہے گا۔حضور نے حقیقت محمدیہ کے اس اظہار کے بارہ میں پیدا ہونے والے بعض اشکال اور الجھنوں کا تجزیہ کر کے انہیں بھی بڑے حسین پیرایہ میں حل کیا اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انسانی فہم و ادراک سے بالا مقام اور انتہائی ارفع و اعلیٰ شان کو واضح کر کے بڑی عمدگی کے ساتھ حقیقت محمدیہ کو ذہن نشین کرایا۔حضور کی یہ نہایت درجہ پر مغز علمی تقریر سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے شدید الله محبت کے زیر اثر سامعین بار بار حضرت محمد مصطفی ﷺ زندہ باد اور اسلام زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے اور آپ ﷺ سے اپنے دلی عشق و محبت کا اظہار کرتے ہوئے زیر لب آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے رہے۔154