تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 656
تاریخ احمدیت۔جلد 24 634 سال 1968ء رضا کار مزدوروں کا کام کرتے رہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت جلسہ گاہ بڑی بنائی جا چکی تھی بس آخری شہتیری رکھی جارہی تھی تو ہمارے کانوں میں صبح کی اذان کے پہلے اللہ اکبر کی آواز آئی (وہ آواز اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے ) صبح کی اذان کے وقت وہ کام ختم ہوا۔اور جب حضرت مصلح موعود تشریف لائے تو آپ جلسہ گاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے سارے لوگ اس جلسہ گاہ میں سما گئے اور جتنی ضرورت تھی اس کے مطابق جلسہ گاہ بڑھ گئی۔میں اس وقت یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو تربیت ہمیں دی گئی تھی وہی تربیت سب احمدی نو جوانوں کو ملنی چاہیئے۔یہ خیال ان میں پیدا نہ ہو کہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہم نے پانچ یا سات گھنٹے ڈیوٹی دینی ہے اور اس کے بعد ہم آزاد ہوں گے ان کی اس رنگ میں تربیت ہونی چاہیئے یہ جذبہ ہونا چاہیئے کہ صبح سے لے کر رات کے دس بجے تک کام کریں گے اور جب ڈیوٹی ختم ہو اور پھر کوئی اور کام پڑ جائے تو ہم ساری رات کام کریں گے اور پھر اگلے دن بھی کام کریں گے۔آرام نہیں کریں گے۔پھر حضور انور فرماتے ہیں کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ۱۹۴۷ء کی بات ہے اس وقت جسم میں زیادہ طاقت تھی۔میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اس سال ایک دو ماہ متواتر نہیں سویا۔سارے علاقہ میں آگ لگی ہوئی تھی احمدی اور دوسرے تمام مسلمان مصیبت میں مبتلا تھے۔ہمیں تو کبھی بھی یہ بات یاد نہیں آئی لیکن اس وقت کسی کو بھی یہ یاد نہیں تھا کہ وہ کون سے فرقہ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔سارے مسلمان تھے اور اسلام کا دشمن ان کو تنگ کر رہا تھا۔ان دنوں ایک دو ماہ متواتر میں اس معنی میں نہ سویا کہ میں چوبیس گھنٹے دفتر ہی میں رہتا تھا۔اگر ایک بجے رات کو لیٹتا تھا تو ڈیڑھ بجے میرے ساتھی مجھے جگا دیتے تھے اور کہتے تھے فلاں کام پڑ گیا ہے۔فلاں جگہ سے یہ خبر آئی ہے۔اس طرح پندرہ پندرہ منٹ یا آدھا آدھا گھنٹہ کر کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی نیند لیتا تھا۔ایک مہینہ لگا تار میں نے اس مشقت کو برداشت کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی اور پھر خالی میری ہی مثال نہیں تھی بلکہ سب کا یہی حال تھا بلکہ ممکن ہے