تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 654 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 654

تاریخ احمدیت۔جلد 24 632 سال 1968ء وو 66 تم میرے لئے گرم چائے لائے ہو تم بڑے اچھے اور بیسے “ بچے ہو ( اسی قسم کا کوئی فقرہ اس نے کہا ) اب یہ اس بچہ کے لئے انتہائی امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔اگر اس بچے کے چہرہ پر ایسے آثار پیدا ہو جاتے جن سے معلوم ہوتا کہ یہ اس کیلئے چائے نہیں لا یا بلکہ اپنے لئے لایا ہے تو اس مہمان نے کبھی چائے نہیں لینی تھی۔میں باہر کھڑا ہو گیا اور خیال کیا کہ اگر میں اندر گیا تو نظارہ بدل جائے گا میں نے چاہا کہ دیکھوں یہ کیا کرتا ہے۔اس رضا کار نے نہایت بشاشت کے ساتھ اور اصل حقیقت کا ذرہ بھر اظہار کئے بغیر اس کو کہا ہاں تم بیمار ہو میں تمہارے لئے چائے لے کر آیا ہوں۔اور اگر کوئی دوائی لینا چاہتے ہو تو لے آؤں۔اب یہ خدمت ایسی تو نہیں کہ ہم کہیں کہ ہمالیہ کی چوٹی سر کی لیکن کتنا پیار اور حسن تھا اس بچے کے اس فعل میں۔اس نے اپنے نفس پر اتنا ضبط رکھا اس لئے کہ اس کی یہ خواہش اور جذبہ تھا کہ میں نے مہمان کی خدمت کرنی ہے۔اگر یہ جذ بہ نہ ہوتا تو اس کی ہلکی سی ہچکچاہٹ بھی اس مہمان کو شرمندہ کر دیتی اور اس نے کبھی چائے نہیں پینی تھی۔لیکن اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور کسی اظہار کے کہا ہاں میں آپ کے لئے ہی لے کر آیا ہوں۔۔۔۔پس یہ جذبہ ہے خدمت کا جس کا مطالبہ خدا اور اس کا رسول ﷺے اور اس رسول ﷺ کے عظیم روحانی فرزند آپ سے کر رہے ہیں۔جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی خدمت کیلئے یہ جذبہ ہم میں ہونا چاہیئے۔ہم نے بچپن کی عمر میں بھی یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری چند گھنٹے کی ڈیوٹیاں لگیں گی یعنی یہ کہا جائے گا کہ تم پانچ گھنٹے کام کرو اور باقی وقت تم آزاد ہو۔ہم صبح سویرے جاتے تھے اور رات کو دس گیارہ بجے گھر میں واپس آتے تھے۔وہ فضا ہی ایسی تھی اور ساروں میں ہی خدمت کا یہ جذبہ تھا۔کوئی بھی اس جذبہ سے خالی نہیں تھا۔مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ ماموں جان ( حضرت میر محمد الحق صاحب) کہتے تھے کہ اب تم تھک گئے ہو گے کھانے کا وقت بھی ہو گیا ہے اب تم جاؤ لیکن ہمارا گھر جانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔بس یہ ہوتا تھا کہ دفتر میں بیٹھے ہیں اور اپنی عمر کے لحاظ سے جو کام ملتا ہے وہ کر رہے ہیں۔